آدمی کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ اگر اس کے کچھ ساتھی ہیں تو وہ ساتھیوں کا زور استعمال کرتاہے۔ اور اگر دولت ہے تو دولت کو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اپنے کو بچانے کی تڑپ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں کی طرف دوڑے۔
نماز اور انفاق حقیقۃً مسئلہ آخرت کے بارے میں آدمی کے اسی احساس کا دنیوی اظہار ہیں۔ نماز گویا آخرت کی ہولناکی کو یاد کرکے خدا کی پناہ کی طرف بھاگنا ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو بچائے۔ اسی طرح دنیا میں کھلے اور چھپے خرچ کرناگویا اپنی کمائی کو آخرت کی مد میں دینا ہے تاکہ وہ آخرت کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔
آخرت میں وہی آدمی سہارا پائے گا جس نے دنیا میں خدا کا سہارا پکڑا ہو۔ آخرت میں وہی آدمی چھٹکارا حاصل کرے گا جس نے دنیا میں اس کی خاطر اپنے دائیں بائیں خرچ کیا ہو۔ جولوگ دنیا میں ایسا نہ کرسکیں وہ آخرت میں سہارا کے لیے دوڑیں گے مگر وہاں وہ کوئی سہارا نہ پائیں گے۔ وہ آخرت میں خرچ کرنا چاہیں گے مگر ان کے پاس کچھ نہ ہوگا جس کو فدیہ دے کر وہ وہاں کی مصیبتوں سے نجات حاصل کریں۔