آیت نمبر 37
ہدایت و ضلالت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس پر زیادہ حریص ہیں یا نہیں ہیں کیونکہ رسول کا کام تو صرف ابلاغ ہے۔ رہی ہدایت و ضلالت تو وہ سنت الٰہیہ کے مطابق ملتی ہے اور یہ سنت ایسی ہے کہ اس کے نتائج کو روکا نہیں جاسکتا۔ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو وہ اسے سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ جو شخص سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ ہوجائے اسے اللہ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ سنت الٰہیہ اپنے نتائج ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یہ سنت دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور واللہ فعال لما یشاء ” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔ وما لھم من نصرین (16 : 37) ” ان کے لئے کوئی مدد گار نہ ہوگا “۔ یعنی اللہ کی مشیت کے مقابلے میں ۔