اللہ نے ہدایت و ضلالت کے کچھ قوانین بنائے ہیں اور لوگوں کو ان قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اور ان قوانین کے مطابق و نفع و نقصان کے ذمہ دارہوں گے۔ ان قوانین میں سے ایک یہ قانون بھی ہے کہ انسان ہدایت و ضلالت دونوں کی استعداد رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ہدایت کے رولز کے مطابق راہ اختیار کرتا ہے یہ ضلالت کے رولز اپناتا ہے۔ جو ہدایت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوجاتا ہے اور جو ضلالت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ضلالت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس نے گمراہی کا اپنایا اور ہدایت کے اصولوں سے اعراض کیا۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے عزاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
فلن تحدلھم اولیاء من دونہ (71 : 79) ” اللہ کے سوا ایسے لوگوں کے لئے کوئی حامی و ناصر نہ ہوگا “۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن نہایت ہی توہین آمیز اور خوفناک صورت میں اٹھائے گا۔
علی وجوھھم (71 : 79) ” اوندھے منہ “۔ یہ ہاتھوں کے سہارے چل رہے ہوں گے۔
عمیا وبکما وصما (71 : 79) ” اندھے ، گونگے اور بہرے “ ۔ ان کے وہ تمام اعضاء جو اس اژدھام میں ان کے لئے مفید ہوسکتے تھے سب کے سب بےکار ہوچکے ہوں گے اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ دنیا میں ان کو یہ اعضا اس لئے دئے گئے تھے کہ یہ لوگ ان کو صحیح کام میں لائیں اور ہدایت کے دلائل کو سمجھنے کی سعی کریں مگر انہوں نے ان اعضاء وجوارح کر بری راہوں میں استعمال کیا۔
ماوھم جھنم (71 : 79) ” ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔ ایسی آگ جو کبھی بجھتی نہیں اور نہ سرد پڑتی ہے۔
کلما خبت زدنھم سعیرا (71 : 79) ” جب بھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے بھڑکا دیں گے “۔
یہ نہایت ہی خوفناک انجام ہے اور یہ نہایت ہی ڈرائونی سزا ہے لیکن یہ لوگ اس کے مستحق اس لئے ہوگئے ہیں کہ انہوں نے آیات الیہ کا کفر کیا۔