اذقاموا (81 : 31) یعنی وہ اٹھے اور انہوں نے ایمان کی تحریک برپا کردی اور وہ عزم و ثبات کا پیکر بن گئے۔
فقالوا ربنا رب السموت والارض (81 : 31) ” انہوں نے کہا ہمارا رب تو بس وہ ی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ “ وہ رب کائنات ہے۔ سب کی سب کا۔
لن دعوا من دونہ الھا (81 : 31) ” ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ “
کیونکہ وہ واجد ہے اور بلا شریک ہے۔
لقد قلنا اذا شططا (81 : 31) ” اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بےجا بات کریں گے۔ “ حق سے تجاوز کریں گے اور صحیح راستے سے ایک طرف ہوجائیں گے۔
اس کے بعد وہ اس امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس پر ان کی قوم عمل پیرا تھی ، وہ ان کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں اور اس منہجا پر اعتراض کرتے ہیں جس کے مطابق ان کی قوم زندگی بسر کر رہی تھی ،