یہ دونوں بھوک تھے۔ لیکن وہ دونوں ایسے گائوں میں تھے جس کے باشندے بخیل تھے۔ وہ کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلاتے تھے نہ کسی مہمان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اچانک یہ شخص دیکھتا ہے کہ ایک دیوار گرا چاہتی ہے۔ یہاں بھی انداز ایسا ہے کہ دیوار گویا زندہ ہے اور وہ بالا ارادہ گرنا چاہتی ہے۔
یرید ان ینقص (81 : 88) ” وہ ارادہ کرتی ہے کہ گر جائے۔ “ یہ بندئہ خدا بس دیکھتے ہی بغیر کسی معاوضہ کے دیوار کو از سر نو کھڑا کرنے میں لگ گیا۔
یہاں موسیٰ (علیہ السلام) سہ بارہ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کے طرز عمل میں کھلا تضاد ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ شخص مشقت برداشت کرتا ہے اور اس گائوں میں یہ نیکی کا کام کرتا ہے جبکہ ہم بھوکے ہیں اور ان لوگوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کردیا۔ کیا کم از کم یہ بات معقول نہ تھی کہ وہ اس دیوار کو درست رنے پر معاوضہ طلب کرتے اور اس کے عوض کھانا کھالیتے۔
پس اب اس سے دونوں کے درمیان جدائی ہوگئی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے کوئی عذر نہ تھا۔ نہ اب دونوں کے درمیان مزید رفاقت کی کوئی گنجائش رہ گئی تھی۔