قال امنتم ……اجمعین (26 : 39) ” ۔ “ تم میری اجازت کے بغیر میرے مشورے کے بغیر ہی موسیٰ کی بات مان کر سجدہ ریز بھی ہوگئے۔ یہاں اس نے یہ نہیں کہا امنتم بہ ” تم اس پر ایمان لائے “ بلکہ اس نے امنتم لہ کہا یعنی تم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور میری اجازت کے بغیر جس طرح کوئی شخص جنگی چال چلتا ہے اپنے ارادے کا مالک ہوتا ہے ، وہ اپنے ہدف کو جانتا ہے اور اپنے انجام کا اندازہ کرتا ہے۔ ایسا شخص جو ہر کام منصوبہ بندی سے کرتا ہے وہ اس قدرتی لمحے اور اس قدر تی ٹچ کو نہیں سمجھ سکتا جس کی گرفت میں جادوگروں کے دل آگئے۔ سرکش حکمران ایسے لمحات کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ان کے دل پتھر ہوجاتے ہیں اور وہ ایسے روشن لمحات سے محروم ہوتے ہیں۔ چناچہ فرعون بڑی تیزی سے ان پر الزام لگاتا ہے اور عوام الناس کو لائن دیتا ہے کہ ان جادوگروں کے اندر کیوں اس قدر عظیم انقلاب آیا۔
انہ لکبیر کم الذی علمکم السحر (26 : 39) ” ضرور ، یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا۔ “ فرعون نے یہ عجیب الزام لگایا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جادوگروں کے ساتھ کیا تعلق ہو سکتا ہے ، الایہ کہ یہ جادوگر جب کاہن تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے گھر میں پل رہے تھے تو شاید اس زمانے میں کاہن موسیٰ (علیہ السلام) کو تعلیم دیتے ہوں گے۔ یا موسیٰ (علیہ السلام) ان کی عبادت گاہوں میں جاتے ہوں گے۔ اس تعلق کی بنا پر اس نے یہ الزام لگایا پھر بجائے اس کے کہ یہ ان کو کہتا کہ موسیٰ تمہارا شاگرد ہے اس نے یہ الزام لگا دیا کہ یہ تمہار باڑا استاد ہے۔ عوام الناس کے ذہن میں وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ملک کے لئے خطرہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد وہ صراحت کے ساتھ ان کو شدید عذاب کی دھمکی دیتا ہے کہ اچھا انتظار کرو ، میری طرف سے سزا کا۔
فلسوف تعلمون ……اجمعین (26 : 39) ” اچھا ابھی تمہیں معلوم ہوجاتا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ “ یہ ہے وہ حماقت جس کا ارتکاب ہر سرکش ڈکٹیٹر کیا کرتا ہے اور یہ وہ اس وقت کرتا ہے جب اس کی کرسی اور اقتدار کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اس کی ذات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اس میں وہ خود اپنے ضمیر کی ملامت کی بھی پرواہ نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ یہ سزا فرعون سنا رہا ہے جس کا یہ لفظ قانون ہے اور اسی وقت نافذ کردیا جاتا ہے۔ اب ذرا اس گروہ مومن کی بات بھی سن لیں جس نے روشنی کو دیکھ لیا ہے۔
یہ اس دل کی بات ہے جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور اس معرفت کے بعد اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اب کا جاتا ہے۔ یہ ایسے دل کی بات ہے جس نے اللہ تک رسائی حاصل کرلی ہے اور ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ہے۔ اس لئے وہ ڈکٹیٹر اور سرکش حکمران کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور یہ ایسک ایسے دل کی پکار ہے جو آخرت کا طلبگار ہے اور اس لئے اسے اس دنیا کے فائدے کی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔ خواہ قلیل ہو یا کثیر۔