Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
2:179
ولكم في القصاص حياة يا اولي الالباب لعلكم تتقون ١٧٩
وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌۭ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ١٧٩
وَلَكُمۡ
فِي
ٱلۡقِصَاصِ
حَيَوٰةٞ
يَٰٓأُوْلِي
ٱلۡأَلۡبَٰبِ
لَعَلَّكُمۡ
تَتَّقُونَ
١٧٩
There is ˹security of˺ life for you in ˹the law of˺ retaliation, O  people of reason, so that you may become mindful ˹of Allah˺.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith

اب قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد بتاکر بات ختم کی جاتی ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “

ضرور انتقام ہی لیاجائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلندو برتر مقاصد کا حامل ہے ۔ یہ زندگی کے لئے ، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے ، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے ۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔

ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا چاہئے کہ یہ بات معمولی نہیں بلکہ ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قیمت دینی پڑے گی ۔ یوں نظام قصاص سے دوزندگیاں بچ جاتی ہیں ۔

ارتکاب قتل کی صورت میں قاتل کو سزا ہوجاتی ہے ۔ وہ قصاص میں مارا جاتا ہے ۔ مقتول کے ورثاء مطمئن ہوجاتے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دورہوجاتا ہے اور انتقام کے جذبات سرد پڑجاتے ہیں اور پھر وہ انتقام جو عرب قبائل میں تو کسی حدپر ، کسی مقام پر رکتا ہی نہ تھا۔ چالیس چالیس سال تک قتل کے بدلے میں قتل کا سلسلہ چلتارہتا تھا۔ مثلاً حرب البسوس میں یہی ہوا۔ عرب کیا آج بھی اس گواہ ہیں ، جہاں زندگی خاندانی دشمنیوں اور کینوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ معاملہ چلتا ہی رہتا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔

” قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اپنے عمومی مفہوم میں ۔ ایک فرد کی زندگی پر حملہ دراصل جنس زندگی پر حملہ ہے ۔ پوری زندگی پر حملہ ہے ہر انسان پر حملہ ہے ۔ ہر اس انسان پر حملہ جو مقتول کی طرح زندہ ہے ۔ اگر قانون قصاص کی وجہ سے ایک مجرم ، صرف ایک زندگی کو ختم کرنے سے رک جائے تو اس نے پوری انسانیت کو بچالیا ۔ یوں اس ارتکاب جرم سے رک جانا عین حیات ہے اور یہ عام زندگی ، کسی ایک فرد کی زندگی نہیں ہے ، کسی خاندان کی نہیں ، کسی جماعت کی نہیں بلکہ مطلقاً زندگی ہے۔

اب آخر میں قانون الٰہی کی حکمت میں غور وفکر کے شعور کے موجزن کیا جاتا ہے اور خدا خوفی کی تلقین کی جاتی ہے ۔ (یہی وہ اہم فیکٹر اور موثر ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی قائم رہ سکتی ہے ) تَتّقُونَ ” امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “

یہ ہے وہ اصل بندھن ، جو انسان کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتا ہے ، ابتداء میں قتل ناحق کی زیادتی سے روکتا ہے ، اور آخر میں انتقام کی زیادتی سے ۔ یہ کیا ہے ؟ خدا خوفی ، تقویٰ ، دل میں خدا خوفی کا شعور اور شدید احساس ۔ اللہ کے قہر وغضب سے ڈرنے کا احساس اور اس کی رضاجوئی کی کشش۔

اس پابندی کے بغیر کوئی قانون کامیاب نہیں ہوسکتا ، کوئی شریعت کامیاب نہیں ہوتی ۔ کوئی شخص ارتکاب جرم سے باز نہیں رہتا ۔ انسانی طاقت سے اعلیٰ اور برتر طاقت کے تصور کے بغیر اخروی خوف اور طمع کے روحانی احساس کے بغیر کوئی ظاہری شیرازہ بندی اور قانونی انتقام کامیاب نہیں ہوسکتا۔

حضرت محمد ﷺ کے دور اور خلافت کے زمانہ میں جرائم کا وقوع شاذ ونادر ہی رہا ہے ۔ جو جرائم وقوع پذیر ہوئے بھی تو مجرم نے خود اعتراف کیا ۔ اس کا رازیہی ہے کہ وہاں تقویٰ کا زور تھا۔ لوگوں کے دل و دماغ میں ، ایک زندہ ضمیر کی صورت میں تقویٰ ، چوکیدار کی طرح بیٹھا ہوا تھا ۔ جو ہر وقت بیدار رہتا تھا ۔ وہ انہیں حدود جرم سے بھی دور رکھتا ۔ ساتھ ساتھ انسانی فطرت اور انسانی جذبات و میلانات وانصرام تھا۔ دوسری طرف اسلامی عبادات کے نتیجے میں تقویٰ اور خدا خوفی کا سیل رواں تھا۔ دونوں کے باہم تعاون اور ہم آہنگی کے نتیجے میں ہم آہنگ اور پاک وصاف قانون اور شریعت موجود تھی ۔ ایک طرف شریعت و قانون اور ظاہری انتقام میں ایک پاک صالح تصور زندگی اور نظام زندگی نے جنم لیا ، جس میں لوگوں کا طرز عمل پاک طرز فکر صالح تھی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس نظم نے ملک سے پہلے ہر شخص کے دل میں ایک منصف بٹھادیا تھا اور ایک عدالت قائم کردی تھی ۔ حالت یہ تھی کہ اگر کسی وقت کسی پر حیوانیت غالب ہی آگئی اور غلطی کا صدور ہوگیا اور یہ شخص قانون کی گرفت سے بچ بھی گیا تو بھی اس کا ایمان اس کے لئے نفس لوامہ بن گیا۔ اس نے اپنے ضمیر میں خلش اور چبھن محسوس کی ۔ دل میں ہر وقت خوفاک خیالات کا ہجوم برپا ہوگیا۔ اور گناہ کرنے والے کو تب آرام نصیب ہوا کہ جب اس نے قانون کے سامنے رضاکارانہ اعتراف جرم کرلیا اور اپنے آپ کو سخت سزا کے لئے پیش کردیا اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس سزا کو برداشت کیا ، محض اللہ کے غضب سے بچنے کی خاطر۔ یہ ہے تقویٰ ، یہ ہے خدا خوفی۔

اب موت کے وقت وصیت کے مسائل کا بیان ہوتا ہے ۔ آیات قصاص کی فضا اور ان آیات کی فضا (یعنی موت اور زندگی کا اختتام ) کے درمیان مناسبت بالکل ظاہر ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved