اور اگر بالکل امن وامان کی حالت ہوجائے تو پھر نماز وہی ہے ، جس کی تعلیم دی ہے اور مزید انہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہئے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جن سے وہ واقف نہ تھے : فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ” اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھایا ہے ۔ جس سے پہلے تم واقف نہ تھے۔ “ لوگ جانتے ہی کیا تھے ، اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ سکھاتا ، اگر اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر لمحہ لمحہ ان کی راہنمائی نہ فرماتا۔
ازدواجی زندگی کے احکام اور طلاق کے احکام کے دوران ، نماز کی یہ سرسری بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس سے مقصود مسلمانوں کے دل میں عبادت اور بندگی کا وہ جامع تصور بٹھانا ہے جو اسلامی نظام زندگی کا اصل الاصول ہے یعنی امتثال امر عبادت ہے چناچہ پھر اصل موضوع یعنی عائلی احکام کو یہاں مکمل کردیا جاتا ہے :