ومن ایتہ خلق ۔۔۔۔۔۔ ذلک لایت للعلمین (30: 22) زمین و آسمان کی تخلیق وہ نشانی ہے جس کی جانب قرآن کریم نے بار بار مبذول کرائی ہے لیکن ہم رات اور دن اس زمین کے اوپر رہتے ہیں اور اس آسمان کے نیچے رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کی اس تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ زمین و آسمان اس قابل ہیں کہ ان پر طویل عرصہ تک غور کیا جائے اور بار بار غور کیا جائے اور گہرا غور و فکر کیا جائے۔
خلق السموات کا مفہوم کیا ہے کہ اللہ نے یہ عظیم ، پیچیدہ اور نہایت ہی وسیع کائنات تخلیق کی ہے۔ اس عظیم اور وسیع کائنات کے ایک نہایت ہی معمولی حصے کا علم ہم ابھی تک حاصل کرسکے ہیں۔ افلاک اور فلکی کر ات کا یہ عظیم اور لاتعداد اژدھام ، ستارے ، سیارے ، ان کے مدار ، کہکشاں اور پھر بلیک ہول۔ اس پوری کائنات کے اندر ہماری یہ زمین اس طرح ہے جس طرح ایک حقیر ذرہ جو ہماری اس زمین کی فضا میں اڑ رہا ہے جس کا نہ کوئی وزن ہے اور نہ کوئی سایہ ہے۔ اس ہولناک کائنات کی ناقابل تصور وسعت کے ساتھ یہ کائنات نہایت دقیق اور ناقابل تغیر نظم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ اس کی حرکات اور اس کے کر ات کے مدارات میں بےانتہا نظم و ضبط ہے حالانکہ ان کے درمیان طویل فاصلے ہیں۔ ان حرکات میں کوئی اضطراب کوئی بےقاعدگی نہیں ہے اور ہر چیز حکم ربی کے مطابق چل رہی ہے۔
یہ مشاہدہ تو عمو۔۔ نجم اور ان کر ات کی حرکت کے نظم کے اعتبار سے ہے۔ رہے اس کائنات کے اسرار تو اس کے اندر پائی جانے والی متنوع مخلوقات ، ان کے مزاج اور وہ حالات جن میں وہ مخلوق رہتی ہے اور وہ حالات جو اس پر طاری ہوتے ہیں تو ان کی انتہا نہیں ہے۔ پھر وہ قوانین جو اس تمام مخلوق کو محفوظ رکھتے ہیں ، اس مخلوق کو چلاتے ہیں ، اور اس کے اندر تصرف کرتے ہیں تو ان کی انتہا تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان تمام امور اور موضوعات پر انسان کا علم بہت ہی محدود ہے۔ سمندر میں سے قطرے کے برابر بھی نہیں ہے۔
زمین و آسمان کی تخلیق پر یہ ایک سرسری نظر ہے ، بہت ہی اختصار کے ساتھ۔ سائنس دان اور علمائے انسانیات نے اس سلسلے میں جو مختصر سا علم حاصل کرلیا ہے اس پر ہم طول بحث کرسکتے ہیں۔ اب تک جو معلومات فراہم ہوسکی ہیں ان کے مطابق یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کے مختلف اجزاء باہم مربوط ہیں۔ یہ تمام اجزاء بغیر اس کے کہ باہم متصادم ہوں ، روز تخلیق سے حرکت میں ہیں ، ایک سیکنڈ کے لیے بھی ان میں ٹھہراؤ نہیں ہے لیکن اس عجیب نظام میں جو بہت ہی پیچیدہ ہے ، کبھی بھی یہ اجزاء اور اجرام باہم متصادم نہیں ہوتے۔ اس نظام کے بارے میں موجودہ فراہم شدہ معلومات کے باوجود بعض ہلکے لوگ یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ اور پھر اس کا کوئی مدبر نہیں ہے جو اسے یوں چلا رہا ہے۔ ان نام نہاد سائنس دانوں کی یہ بکواس آج بھی سنی جاتی ہے۔
پھر آسمانوں اور زمین کے ساتھ ساتھ اس میں پائے جانے والوں یعنی مختلف انسانوں کے مختلف رنگ اور مختلف شکلیں اور مختلف زبانیں۔ یہ اختلاف بھی تخلیق سماوات سے مربوط ہے۔ زمین پر مختلف قسم کے رنگوں اور زبانوں کا تعلق بھی تخلیق سماوات سے ہے۔ مختلف علاقوں اور موسموں سے رنگ اور زبانیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کے رنگ و زبان اور شکل و صورت کا موسمیات کے ساتھ گہرا ربط ہے۔
ہمارے دور کے علماء اور سائنس دان لوگوں کے رنگ اور زبانوں کے اختلاف کو دیکھتے ہیں اور کبھی انہوں نے اس پر غور نہیں کیا اور نہ وہ اس حقیقت کی طرف جاتے ہیں کہ اللہ کی تخلیقات کے یہ نمونے ہیں اور یہ کہ یہ باتیں بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ زبانوں کے اختلاف پر بہت ہی گہرا مطالعہ کرتے ہیں لیکن وہ اسے اللہ کی نشانی سمجھ کر اللہ تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باجود اس کے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سائنس دان ہیں مگر دراصل وہ سائنس دان نہیں ہیں
یعلمون۔۔۔ الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” یہ لوگ اس زندگی کے بھی بس ظاہری پہلو کو جانتے ہیں “۔ اور انسان اور علوم انسانی کا یہ پہلو کہ لوگوں کے رنگ مختلف ہیں اور زبانیں مختلف ہیں اسے صرف حقیقی علماء اور مومن سائنس دان ہی دیکھ سکتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت للعلمین (30: 22) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں صرف دانش مندوں کیلئے “۔