واذ قال لقمن ۔۔۔۔۔ لظلم عظیم (13)
یہ ایک ایسا وعظ ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے کیونکہ کوئی والد اپنے بیٹے کے لیے اچھائی کے سوا اور کوئی ارادہ ہی نہیں کرسکتا۔ ایک والد اپنے بیٹے کے لیے ناصح مشفق ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ہیں لقمان حکیم جو اپنے بیٹے کو شرک سے منع کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ شرک دراصل ایک عظیم ظلم ہے۔ وہ اس بات کو دو بار اپنی تقریر میں دہراتے ہیں ۔ ایک بار تو وہ شرک سے روک کر اس کی علت بتاتے ہیں اور دوسری تاکید لفظ ان اور لام تاکید کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو حضرت محمد ﷺ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ ہیں کہ ناحق مجادلہ کرتے ہیں اور اس عقیدے پر زور دینے کی وجہ سے حضرت پر الزامات عائد کرتے ہیں کہ شاید ان کی کوئی ذاتی غرض اس سے وابستہ ہے ، مثلاً یہ کہ حضرت محمد ﷺ حکمران بننا چاہتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ بات درست نہیں ہے اس لیے کہ حضرت لقمان اپنے بیٹے کے سامنے یہی تقریر کرتے ہیں اور ان کو شرک سے رکنے کا امر کرتے ہیں ظاہر ہے کہ کوئی والد کم از کم اپنے بیٹے سے کوئی غلط بات نہیں کرسکتا۔ لہٰذا یہ نصیحت ہر قسم کے ظن اور گمان سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسے بھی حکمت دی گئی وہ عقیدہ توحید کا قائل ہوتا ہے۔ عقیدہ توحید سے غرض خیر ہی خیر ہے اور کچھ بھی نہیں اور یہ ایک نفسیاتی استدلال ہے۔
چونکہ یہ والد کی جانب سے اپنے بیٹے کو ایک مشفقانہ وعظ تھا ، اس لیے یہ بھی بتا دیا گیا کہ جب والد اپنی اولاد کے حق میں اس قدر مخلص اور مشفق ہوتا ہے تو تمام انسانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کا تم پر حق ہے۔ یہ تقریر بھی نہایت ہی محبت بھرے الفاظ میں ہے۔ یہ باپ اور بیٹے ، والدین اور اولاد کے تعلق کو نہایت ہی شفیقانہ اور اشاراتی انداز میں بیان کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود نظریاتی تعلق اور نظریاتی روابط کو نسب اور خون کے تعلق سے مقدم رکھا جاتا ہے۔