Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
31:15
وان جاهداك على ان تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا واتبع سبيل من اناب الي ثم الي مرجعكم فانبيكم بما كنتم تعملون ١٥
وَإِن جَـٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِى ٱلدُّنْيَا مَعْرُوفًۭا ۖ وَٱتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ ۚ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ١٥
وَإِن
جَٰهَدَاكَ
عَلَىٰٓ
أَن
تُشۡرِكَ
بِي
مَا
لَيۡسَ
لَكَ
بِهِۦ
عِلۡمٞ
فَلَا
تُطِعۡهُمَاۖ
وَصَاحِبۡهُمَا
فِي
ٱلدُّنۡيَا
مَعۡرُوفٗاۖ
وَٱتَّبِعۡ
سَبِيلَ
مَنۡ
أَنَابَ
إِلَيَّۚ
ثُمَّ
إِلَيَّ
مَرۡجِعُكُمۡ
فَأُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
١٥
But if they pressure you to associate with Me what you have no knowledge of,1 do not obey them. Still keep their company in this world courteously, and follow the way of those who turn to Me ˹in devotion˺. Then to Me you will ˹all˺ return, and then I will inform you of what you used to do.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 31:14 to 31:15

ووصینا الانسان بوالدیہ ۔۔۔۔۔ بما کنتم تعملون (14 – 15)

قرآن کریم میں بار بار اولاد کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں اور رسول اللہ ﷺ کے نصائح میں بھی اس کی بار بار تاکید آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں والدین کو اپنے کو اپنی اولاد کے بارے میں بہت کم ہدایت دی گئی ہے۔ جو نصیت کی گئی ہے وہ زندہ درگور کرنے کی بری رسم کے سلسلے میں ہے جبکہ یہ رسم بہت ہی محدود علاقوں میں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں پر رحم و شفقت ہر انسان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ اللہ نے سلسلہ حیات کو جاری رکھنے کے لیے والدین کے اندر یہ داعیہ رکھ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت کریں۔ والدین ، اپنے جسم ، اپنے اعصاب اور اپنی عمریں بچوں کے لئے کھپا دیتے ہیں۔ وہ اپنی ہر قیمتی چیز اپنے بچوں پر قربان کردیتے ہیں اور اس راہ میں جو بھی مشکلات آجائیں اف نہیں کرتے اور نہ شکوہ کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات والدین لاشعوری طور پر بچوں کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں بلکہ وہ بچوں پر نہایت ہی خوشی خوشی سے سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ اس طرح گویا یہ سب کچھ والدین اپنے لیے کرتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کے لیے فطرت انسانی خود کفیل ہوتی ہے ، مزید کسی وصیت اور تاکید کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ رہا لڑکا اور اولادتو ان کو بار باد یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس نسل کا خیال رکھیں جس نے تم پر سب کچھ قربان کردیا ہے ، جس نے سب تدبیریں تمہارے لیے کیں اور خواب ٹمٹماتے چراغ ہیں یا چراغ سحری ہیں جنہوں نے اپنی عمر ، اپنے جسم اور اپنی روح کو کشید کرکے تمہاری زندگی کا ساماں تیار کیا ہے اور جہاں تک بچوں اور اولاد کا تعلق ہے وہ والدین کی قربانیوں کا پورا معاوضہ نہیں دے سکتے اگرچہ وہ اپنی عمر ہی والدین کے لئے وقف کردیں۔ ذرا اس پر تاثیر کو دیکھیں۔

حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین (31: 14) ” اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے “۔ اس قربانی اور اس نیکی کی تصویر اس سے اچھی نہیں بنائی جاسکتی۔ والدہ اپنے فریضہ طبیعی کی رو سے زیادہ قربانی دیتی ہے اور بچوں کے لیے اس کی محبت ، شفقت اور نرمی باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند میں یہ روایت کی ہے بذریعہ مریدہ اور اس کے والد کا ایک شخص طواف میں تھا اور اپنی ماں کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا تو اس نے نبی ﷺ سے دریافت کہ کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ، ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ یوں ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔ حمل کے دور میں اور وضع حمل کے دور میں ، جب کہ وہ اسے ضعف جھیل کر اٹھا رہی تھی۔ اس خوشگوار شکر گزاری کے سائے میں متوجہ کیا جاتا ہے کہ منعم اول کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ پہلا شکر اللہ کا ہے اور دوسرا والدین کا ہے۔

ان اشکرلی ولو الدیک (31: 14) ” کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا “۔ اور ان حقائق کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی یاد رکھو۔

الی المصیر (31: 14) ” میری ہی طرف تمہیں پلٹنا ہے “۔ اور وہاں یہی سازو سامان تمہیں فائدہ دے گا۔

لیکن والدین اور اولاد کے اس تاکیدی تعلق کے باوجود اور اولاد کی جانب سے اس حرمت اور ادب کے باوجود یہ تعلق ثانوی ہے۔ اس سے قبل نظریاتی تعلق ہے۔ لہٰذا اولاد کو یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ نظریات کے سلسلے میں والدین کے احکام اور خواہش کو بھی رد کیا جاسکتا ہے۔

وان جاھدک علی ۔۔۔۔۔ فلا تطمعھما (31: 15) ” لیکن اگر رہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان “ ۔ کیونکہ والدین کی اطاعت کی سرحد یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے آگے رب تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے اور نظریاتی تعلق باپ بیٹے کے تعلق سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اس لیے والدین کسی کو مشرک بنانے کے جو احکام دیں ، جدوجہد کریں ، دباؤ ڈالیں ، مطالبے کریں ، ناراض ہوں ، تو ان کی یہ بات نہیں مانی جاسکتی کیونکہ اولاد جانتی نہیں ہے کہ اللہ کا کوئی شریک بھی ہے۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ یہاں سے آگے والدین کی اطاعت نہیں ہے۔ خالق کی اطاعت ہے۔

لیکن نظریاتی اختلاف اور نظریات کے بارے میں والدین کی عدم اطاعت کے حکم کے باوجود والدین کی عزت و احترام اور

ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ ضروری ہے۔

وصاحبھما فی الدنیا معروفا (31: 15) ” دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ “۔ یہ دنیا کی زندگی تو ایک مختصر سفر ہے۔ اصل سفر یہ ہے۔

واتبع سبیل من اناب الی (31: 15) ” مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے “۔ یعنی اہل ایمان کی پیروی کرو۔ اور اس مختصر سفر کے بعد پھر تم نے اللہ کے سامنے حاضری دینی ہے ۔

ثم الی مر جعکم فانبئکم بما کنتم تعلمیون (31: 15) ” پھر تم سب کو پلٹنا میری طرف ہے ۔ پھر میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرکے آئے ہو “۔ اور ہر شخص کے لیے وہاں جزاء ہوگی اس کے اعمال کی چاہے اس نے شکر کیا یا کفر کیا ۔ شرک کی راہ اختیار کی یا توحید کا راستہ اپنایا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت اور سورة عنکبوت کی آیت جو اس کے مثابہ ہے اور سورة احقاف کہ ایک آیت جس کا یہی مضمون ہے ، یہ آیات حضرت سعد ابن ابی وقاص اور اس کی ماں کے حق میں نازل ہوئیں ۔ (میں نے بیسویں پارے میں سورة عنکبوت کی آیت کے ضمن میں تفصیلات دی ہیں ) بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت سعد ابن ملک ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ طبرانی نے اسے کتاب العشرۃ میں نقل کیا ہے جو انہوں نے داؤدابن سے بند سے روایت کی ہے ۔ مسلم کی حدیث میں سعد ابن ابی وقاص کا قصہ آیا ہے اور راجح بات یہی ہے لیکن مفہوم اور حکم تمام ایسے حالات پر عام ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ تعلقات میں بھی درجات میں اور فرائض میں بھیدرجات ہیں ۔ ہر حکم اور ہر تعلق کی اپنی قدرت و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسلام میں اللہ کا رابطہ سب سے پہلا رابطہ ہے اور اللہ کے حقوق سب سے اونچادرجہ رکھتے ہیں قرآن کریم مراتب کر اس ذوق کو بار بار بتاتا ہے کہ اگر فرق مراتب نہ کئی خوندیقی ۔ اور باربار ماکید اس لیے کی جاتی ہے کہ اس معاملے میں کوئی اجمال واشکال نہ رہے ۔ یہ تو تھا جملہ معترضہ حضرت لقمان کی تقریر میں ۔ اس کے بعد ان کی تقریر اور نصیحت پھر شروع ہوتی ہے۔ اور یہ مسئلہ بعث بعد الموت اور حشر و نشر اور جزاء و سزا کے بارے میں ہے کہ وہاں سب کو جزاء و سزا ملے گی اور یہ بہت ہی عادلانہ ہوگی لیکن اس اصول کو محض اصول کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ایک کائناتی تمثیل اور تصویر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس قدر موثر انداز میں جس سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے اور اس تصویر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اس کائنات کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اس لیے ہر کسی کے اجزائے جسم کے تمام ذرات کو وہ لا سکتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved