یایھا الباس اتقوا ۔۔۔۔۔۔ یغرنکم باللہ الغرور (33) ” “۔ یہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ یہاں دنیا میں جو خوف ہوتا ہے دلوں میں اور شعور میں اس کی تو مثال ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کا یہ خوف بےمثال ہوگا۔ اس میں تمام رشتہ داری اور خون کے تعلقات ختم ہوں گے۔ والدہ اولاد سے بھاگ رہا ہوگا۔ اور اولاد کو والدین کی پرواہ اور فکر نہ ہوگی۔ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی ، نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، کوئی کسی کی جگہ ضامن نہ ہوگا ، کسی کو بھی خود اس کے اپنے اعمال کے سوا کسی کا عمل فائدہ نہ دے سکے گا۔ ایسے حالات ظاہر ہے کہ ایسے خوف میں ہوں گے جس کی کوئی نظیر اس دنیا میں نہ ہوگی۔ لہٰذا یہاں خدا سے ڈرنے کی دعوت دینا بہت سی برمحل دعوت ہے اور آخرت کا مسئلہ نہایت ہی خوف کے عالم میں پیش ہوا ہے اس لیے و دماغ اس کی طرف متوجہ ہیں۔
ان وعد اللہ حق (31: 33) ” فی الواقعہ اللہ کا وعدہ سچا ہے “۔ نہ اللہ اس کے خلاف کرتا ہے اور نہ اللہ کا کہا ٹل سکتا ہے۔ ہر شخص کو اس بےمثال خوف سے گزرتا ہے اور ہر شخص کو پوری باریکی سے حساب و کتاب دینا ہے۔ ایک عادلانہ فیصلہ سننا ہے جس کے نیتجے میں نہ باپ بیٹے کا بدل ہوگا اور نہ بیٹا باپ کا۔
فلما تغرنکم الحیوۃ الدنیا (31: 33) ” پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے “۔ اس دنیا میں سازو سامان ہے ، لہو و لعب ہے لیکن اس کی مہلت بہت ہی محدود ہے۔ یہاں انسان آزمائش کیلئے بھیجا گیا ہے۔
ولا یغرنکم باللہ الغرور (31: 33) ” اور نہ دھوکہ باز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے “۔ کوئی سازو سامان تمہیں دھوکا نہ دے۔ کوئی شفل میلہ تمہیں بدراہ نہ کر دے ، کوئی شیطان تمہیں وسوسے میں نہ ڈالے۔ دھوکا باز بہت ہیں ، شیطان بیشمار ہیں اور دنیا کی دلچسپیاں بھی ہر طرف سے دامن کش ہیں۔ مال کا غرور بھی شیطان ہے۔ علم کا غرور بھی شیطان ہے ، قوت کا غرور بھی شیطان ہے اور شیطان پرستی بھی شیطان ہے ، خواہش نفس بھی شیطان ہے۔ شہوت جسمانی بھی شیطان ہے۔ ان تمام شیطانوں سے بچانے والی قوت خوف خدا کی قوت ہے۔
اس سورة کے خاتمے اور اس چوتھے راؤنڈ کے خاتمے پر اور اس خوفناک منظر آخرت کی مناسبت سے فکر و خرد کے تاروں پر یہ آخری اور ذرا شدید مضراب لگتا ہے۔ اس میں اللہ کے علم لامحدود اور انسان کے محدود علم کی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ انسان کا علم جس کی دسترس سے ہر وہ چیز غائب ہے جو نظروں سے اوجھل ہو۔ اب اس مسئلے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے جو اس سورة کا موضوع ہے اور یہ نتیجہ قرآن کی عجیب تصویر کشی سے نکلتا ہے ، اللہ کے علم ازلی اور ابدی کی تصویر۔