ویقولون متی ھذا ۔۔۔۔۔ وانتظ انھم منتظرون (28 – 30)
اچھا ” انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو ، یہ بھی منظر ہیں “۔ فتح دراصل فریقین کے درمیان اختلاف کے فیصلے کو کہا جاتا ہے۔ وہ عذاب جس سے حضور اکرم ﷺ ڈرا رہے تھے اس کا آنا بھی فتح ہے۔ یہ لوگ غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہرحال کسی حکمت کی وجہ سے اس کے آنے کی میعاد موخر کی ہوتی ہے۔ وہ اگر سو بار بھی مطالبہ کریں اللہ کا کام اپنے وقت پر ہوتا ہے اور جب وہ آئے گا تو یہ لوگ اس کی مدافعت نہ کرسکیں گے اور اس سے بچ کر نہ نکل سکیں گے۔
قل یوم الفتح ۔۔۔۔۔ ولا ھم ینظرون (32: 29) ” ان سے کہو ، فیصلے کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کی کوئی مہلت نہ ملے گی “۔ خواہ فیصلے کا دن اس دنیا میں ہو۔ اس وقت ان کو دھر لیا جائے گا جبکہ وہ کافر ہوں گے۔ پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ ان کا ایمان لانا اس وقت نافع ہوگا اور یہ فیصلے کا دن آخرت میں ہوگا۔ اس وقت یہ مہلت طلب کریں گے اور مہلت نہ دی جائے گی۔
یہ جواب اعصاب تمکن ہے اور اس سے دل دہل جاتے ہیں اور آخری ضرب ان پر یہ لگائی جاتی ہے۔