ورد اللہ الذین ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ قویا عزیزا (25) ” “۔ اس معرکے کا آغاز ہوا۔ یہ آگے بڑھا۔ اپنے انجام تک پہنچا لیکن پورے دور میں اس کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں تھیں۔ جس طرح اللہ چاہتا تھا ، واقعات کا رخ موڑ دیتا تھا۔ قرآن کریم اپنے انداز تعبیر کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو بھی واقعات ہوئے ، وہ اللہ نے کرائے اور یہ بات اچھی طرح اہل ایمان کے دلوں میں بٹھا دی گئی۔ یوں اسلامی تصور حیات کو واضح کردیا گیا۔
اب اس لشکر کشی کا وبال صرف مشرکین قریش ، اور غطفان پر ہی نہ پڑا بلکہ مشرکین کے حلفاء بنی قریظہ بھی اس کی زد میں آگئے۔