Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
33:53
يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي الا ان يوذن لكم الى طعام غير ناظرين اناه ولاكن اذا دعيتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسين لحديث ان ذالكم كان يوذي النبي فيستحيي منكم والله لا يستحيي من الحق واذا سالتموهن متاعا فاسالوهن من وراء حجاب ذالكم اطهر لقلوبكم وقلوبهن وما كان لكم ان توذوا رسول الله ولا ان تنكحوا ازواجه من بعده ابدا ان ذالكم كان عند الله عظيما ٥٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ إِلَّآ أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَـٰظِرِينَ إِنَىٰهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَٱدْخُلُوا۟ فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَٱنتَشِرُوا۟ وَلَا مُسْتَـْٔنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى ٱلنَّبِىَّ فَيَسْتَحْىِۦ مِنكُمْ ۖ وَٱللَّهُ لَا يَسْتَحْىِۦ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَـٰعًۭا فَسْـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٍۢ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا۟ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓا۟ أَزْوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦٓ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا ٥٣
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لَا
تَدۡخُلُواْ
بُيُوتَ
ٱلنَّبِيِّ
إِلَّآ
أَن
يُؤۡذَنَ
لَكُمۡ
إِلَىٰ
طَعَامٍ
غَيۡرَ
نَٰظِرِينَ
إِنَىٰهُ
وَلَٰكِنۡ
إِذَا
دُعِيتُمۡ
فَٱدۡخُلُواْ
فَإِذَا
طَعِمۡتُمۡ
فَٱنتَشِرُواْ
وَلَا
مُسۡتَـٔۡنِسِينَ
لِحَدِيثٍۚ
إِنَّ
ذَٰلِكُمۡ
كَانَ
يُؤۡذِي
ٱلنَّبِيَّ
فَيَسۡتَحۡيِۦ
مِنكُمۡۖ
وَٱللَّهُ
لَا
يَسۡتَحۡيِۦ
مِنَ
ٱلۡحَقِّۚ
وَإِذَا
سَأَلۡتُمُوهُنَّ
مَتَٰعٗا
فَسۡـَٔلُوهُنَّ
مِن
وَرَآءِ
حِجَابٖۚ
ذَٰلِكُمۡ
أَطۡهَرُ
لِقُلُوبِكُمۡ
وَقُلُوبِهِنَّۚ
وَمَا
كَانَ
لَكُمۡ
أَن
تُؤۡذُواْ
رَسُولَ
ٱللَّهِ
وَلَآ
أَن
تَنكِحُوٓاْ
أَزۡوَٰجَهُۥ
مِنۢ
بَعۡدِهِۦٓ
أَبَدًاۚ
إِنَّ
ذَٰلِكُمۡ
كَانَ
عِندَ
ٱللَّهِ
عَظِيمًا
٥٣
O believers! Do not enter the homes of the Prophet without permission ˹and if invited˺ for a meal, do not ˹come too early and˺ linger until the meal is ready. But if you are invited, then enter ˹on time˺. Once you have eaten, then go on your way, and do not stay for casual talk. Such behaviour is truly annoying to the Prophet, yet he is too shy to ask you to leave. But Allah is never shy of the truth. And when you ˹believers˺ ask his wives for something, ask them from behind a barrier. This is purer for your hearts and theirs. And it is not right for you to annoy the Messenger of Allah, nor ever marry his wives after him. This would certainly be a major offence in the sight of Allah.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اللہ کان بکل شئ علیما (53 – 54) امام بخاری نے حضرت انس ابن مالک کی روایت نقل فرمائی ہے کہ حضور ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے شادی کی تو روٹی اور گوشت کی دعوت دی اور مجھے بلانے کے لیے بھیجا گیا۔ لوگ آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا یہاں تک کہ کوئی نہ رہا۔ تو میں نے کہا حضور اکرم ﷺ کوئی رہ نہیں گیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا اب دسترخوان اٹھالو۔ کمرے میں تین آدمی بیٹھ گئے جو باتیں کر رہے تھے۔ حضور اکرم ﷺ نکلے اور حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں گئے۔ اور فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے فرمایا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اے رسول خدا ﷺ آپ کی نئی بیوی کیسی ہیں۔ اللہ آپ کے لیے اسے مبارک کرے۔ آپ ﷺ اپنی ازواج کے ہاں گئے اور ایسا ہی مکالمہ کہا جس طرح عائشہ ؓ سے ہوا اور سب نے ایسا ہی جواب دیا۔ جب حضور ﷺ واپس ہوئے تو یہ تین افراد اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺ نہایت ہی حیا دار تھے۔ تو حضور ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں چلے گئے۔ معلوم نہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ کو اطلاع دی کہ لوگ چلے گئے یا کسی اور نے اطلاع دی۔ جب حضور ﷺ واپس ہوئے اور اپنا پاؤں دروازے کو چوکھٹ سے اندر رکھا اور دوسرا باہر تھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا دیا اور اس وقت حجاب کی آیت نازل ہوئی۔

اس آیت میں وہ آداب مذکور ہیں جو دور جاہلیت میں ناپید تھے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کے گھر میں بھی یہ ناپید تھے۔ لوگ گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہوجاتے تھے جیسا کہ سورة نور کی آیت استیذان کی تشریح میں تفصیلات گزر گئیں اور حضور اکرم ﷺ کے گھر میں میں تو ان آداب کا بالکل خیال نہ رکھا جاتا تھا اس لئے کہ آپ کا گھر ایک مقام اجتماع تھا اور وہاں لوگ ہر وقت علم و حکمت کے حصول کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ بعض لوگ آتے اور دیکھتے کہ کچھ پک رہا ہے تو وہ بیٹھ جاتے تاکہ بغیر دعوت کی کھالیں۔ بعض لوگ کھاپی لینے کے بعد بھی بیٹھے رہتے۔ چاہے دعوت دی گئی یا خود گھس آئے ہوں۔ پھر باتوں میں لگ جاتے اور نہ سمجھتے کہ اس سے حضور اکرم ﷺ کو کس قدر تکلیف ہو رہی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ تین افراد جب باتیں کر رہے تھے تو اس وقت حضور ﷺ کی دلہن اسی کمرے میں منہ دیوار کی طرف کرکے بیٹھی تھی اور حضور ﷺ اس بات سے حیا کرتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو بتا دیں

کہ وہ آپ کے لیے کس قدر بوجھ ہیں۔ محض اس لیے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں۔ چناچہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ اعلان فرمایا۔

واللہ لا یستحی من الحق (33: 53) ” اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا “۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ اپنی غیرت کی بنیاد پر اور حساس ہونے کی وجہ سے حضور ﷺ کے سامنے یہ تجویز رکھا کرتے تھے کہ حجاب نافذ ہوجائے اور یہ تمنا بھی کرتے تھے یہاں تک کہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” حضور ﷺ آپ کے پاس تو نیک و بد سب آتے ہیں۔ اے کاش کہ آپ ﷺ امہات مومنین کو پردے کا حکم دیتے “۔

اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی کہ لوگ نبی کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔ جب کسی دعوت طعام کے لیے بلایا جائے تو داخل ہوں۔ اگر بلائے نہ گئے ہوں تو جلدی میں نہ آئیں اور کھانے کے پکنے کا انتظار جائے دعوت میں جا کر نہ کریں۔ پھر جب ان کو کھانا کھلا دیا جائے تو چلے جائیں اور کھانا کھانے کے بعد محض گپ شپ کے لیے بیٹھ نہ جائیں۔ نبی ﷺ کے زمانے کے مقابلے میں آج مسلمان آداب کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ اس ترقی کے دور میں بھی ہم ان آداب سے دور ہیں کیونکہ جن لوگوں کو دعوت پر بلایا جاتا ہے وہ کھانے کے بعد بھی جم جاتے ہیں بلکہ کھانا کھاتے وقت ہی وہ طویل باتیں کرتے ہیں اور گھر والے جو اسلام کے احکام حجاب سے بعض احکام ہی کی پیروی کرتے ہیں وہ قید ہوتے ہیں اور مہمان اپنی باتوں میں غرق ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی آداب ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے مفید ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اور خدائی آداب اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے اہل بیت اور عام لوگوں کے درمیان حجاب کی بات سامنے آتی ہے۔

واذا سالتموھن ۔۔۔۔۔ حجاب (33: 53) ” نبی کی بیویوں سے اگر تم نے کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو “۔ اور یہ حجاب تمہارے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔

ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن (33: 53) ” یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے مناسب طریقہ ہے “۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اس بات کے سوا کوئی اور بات کہے۔ اس لیے کسی کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اختلاط ، بےپردگی ، بےباک باتیں ، بےقید ملاقاتیں ، ہم نشینی اور جنیں کے درمیان اشتراک دلوں کو پاک کرتا ہے اور اس طریقے سے ضمیر زیادہ عفیف ہوتے ہیں۔ اس طرح میلانات اور خواہشات دب جاتی ہیں۔ انسانی سلوک اور شعور شفاف ہوجاتے ہیں۔ یہ ہیں بعض وہ خرافات جو اللہ کی مخلوق میں سے گرے ہوئے لوگ کہتے ہیں۔ میں مشورہ دوں گا کہ کسی کو یوں نہیں کہنا چاہئے جبکہ اللہ فرماتے ہیں۔

واذا سالتموھن متاعا ۔۔۔۔۔۔ لقلوبکم و قلوبھن (33: 53) ” نبی کی بیویوں سے اگر تم نے کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگو ، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے نہایت مناسب طریقہ ہے “۔ یہ حضور اکرم ﷺ کی بیویوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے جو امہات المومنین ہیں اور ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے جو زمین کا نمک ہیں۔ رسول کے ساتھی ہیں جن کی ہمسری کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ جب اللہ بات کرتا ہے اور دوسری جانب سے اللہ کی مخلوق ایک بات کرتی ہے تو بات اللہ کی ہوتی ہے اور دوسروں کی باتیں خرافات ہوتی ہیں۔ اللہ کے مقابلے میں انسانوں کی باتوں کو اہمیت وہی شخص دے سکتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ ایک انسان اللہ سے زیادہ جانتا ہے۔

سالوں کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ نے جو کچھ کہا ، وہ زیادہ سچا تھا اور یہ چھوٹے اور بونے لوگ جو کچھ کہتے ہیں ، انکے سالوں اور صدیوں کے تجربات نے غلط ثابت کردیا ہے۔ آج مغرب میں جہاں عورت و مرد کا اختلاط اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے کیا تمام لوگوں کے دل پاک و صاف ہوگئے ہیں۔ امریکہ اس میدان میں سب سے عروج پر ہے۔ ذرا اسی کے حالات کا مطالعہ کرلو۔

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ بلانے سے بھی پہلے آجانا اور کھانے کے پکنے کا انتظار کرنا اور پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد دور دراز کی باتیں کرنا حضرت نبی ﷺ کے لیے تکلیف دہ تھا اور آپ ازروئے حیا چشمی خاموش تھے۔ حالانکہ مسلمانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حضرت بنی ﷺ کو اذیت دیں یا آپ کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کریں۔ جبکہ وہ ان کی ماؤں جیسی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے کا یہ تقاضا ہے کہ آپ کے بعد کوئی ان کے ساتھ نکاح نہ کرے ، اس گھرانے کی حرمت اور عزت کو قائم کرنے کے لئے۔

وما کان لکم ۔۔۔۔۔ بعدہ ابدا (33: 53) ” تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں ہے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض منافقین یہ کہتے تھے کہ وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی وفات ہو اور وہ عائشہ ؓ سے نکاح کریں۔

ان ذلکم کان عند اللہ عظیما (33: 53) ” یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے “۔ اور جو گناہ اللہ کے ہاں عظیم ہو وہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد مزید دھمکی دی جاتی ہے جو بہت شید ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved