Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
34:5
والذين سعوا في اياتنا معاجزين اولايك لهم عذاب من رجز اليم ٥
وَٱلَّذِينَ سَعَوْ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا مُعَـٰجِزِينَ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌۭ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌۭ ٥
وَٱلَّذِينَ
سَعَوۡ
فِيٓ
ءَايَٰتِنَا
مُعَٰجِزِينَ
أُوْلَٰٓئِكَ
لَهُمۡ
عَذَابٞ
مِّن
رِّجۡزٍ
أَلِيمٞ
٥
As for those who strive to discredit Our revelations, it is they who will suffer the ˹worst˺ torment of agonizing pain.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 34:3 to 34:5

وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5)

کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ آخرت برپا ہو ، تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کی اطلاع سچی ہو۔ کفار کی نظروں سے بس یہی حکمت اوجھل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔

لا تاتینا الساعۃ (34: 3) ” قیامت ہم پر نہیں آئے گی “۔ اور اللہ ان کی اس بات کی پرزور تردید فرماتے ہیں۔

قل بلی وربی لتاتینکم (34: 3) ” کہہ دیجئے ، ہاں میرے رب کی قسم قیامت تم پر ضرور آئے گی “۔ اللہ بھی سچا ہے اور اس کے رسول بھی سچے ہیں۔ وہ غیب تو نہیں جانتے لیکن وہ اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں۔ جس چیز کا خود انہیں علم نہیں ہوتا اس کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ جو تاکیداً کہتا ہے کہ قیامت آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس لیے اس کی بات سچ ہے کیونکہ وہ علم پر مبنی ہے۔

اب علم الٰہی کو ایک کائناتی حقیقت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس طرح سورة کے آغاز ہی میں اس کی ایک جامع مثال دی گئی تھی۔ اس شہادت سے معلوم ہوا تھا کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی جامع تمثیلات انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ اسی بات کو اب یہاں دوسرے الفاظ میں پڑھئے۔

لا یعزب عنہ مثقال۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” اس سے زرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی ! سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ میں اس بات کو یہاں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ تصور ایک انسانی تصور نہیں ہے اور نہ انسان اس طرح کی جامع سوچ سوچتا ہے۔ آج تک انسانی کلام کے جو نمونے ہیں نظم کے ہیں یا نثر کے ، ان میں ایسی جامع بات نہیں ملتی۔ جب بھی انسان علم کی جامعیت اور اس کے احاطے کے بارے میں کوئی سوچ پیش کرتا ہے وہ اس قدر کائناتی رنگ میں نہیں ہوتی۔

لا یعزب عنہ ۔۔۔۔۔ من ذلک ولا اکبر (34: 3) ” اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی “۔ کم از کم انسانی نمونہ ہائے کلام میں علم کی شمولیت ، گہرائی اور جامعیت کے لیے ایسا انداز نہیں ملتا جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس طرح اپنے علم کی جامعیت کو بیان کرسکتا ہے اپنے علم کی گہرائی کو بیان کرسکتا ہے۔ یہ باتیں انسانی تخیل کے احاطے میں ہی نہیں آسکتیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا تصور الٰہ اس طرح بلند ہوجاتا ہے جس کی مثال ان کے خیال میں نہیں آتی۔ وہ اپنے تصور اور خیال کو سمجھتے ہوئے اور اسے فوق التصور اور فوق الحیال سمجھتے ہوئے اس کی بندگی کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کتاب مبین کیا ہے ؟ کتاب مبین اللہ کا علم ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ جس سے کائنات کے اندر تیرنے والا ذرہ بھی چھوٹ کر رہ نہیں گیا ، نہ ڈرنے سے کم اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز۔

ذرا اس تعبیر پر کھڑے ہوکر غور کیجئے ” نہ ذرے سے کم “ نزول قرآن کے زمانے تک معروف اور مشہور بات یہ تھی کہ ذرہ صغیر ترین جسم ہے۔ اس سے کم کا تصور موجود ہی نہ تھا۔ آج ذرے کے توڑنے سے انسان کو معلوم ہوا کہ ذرے سے زیادہ چھوٹی چیز بھی موجود ہے۔ اس وقت انسان کے تصور اور حساب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اللہ بہت ہی برکت والا ہے کہ اسکے بندے اسکی صفت کے وہ اسرار و رموز بھی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ صدیوں بعد مانتے ہیں اور یہ اللہ ہئ ہے جو کسی بھی وقت ان اسرار و رموز سے پردہ اٹھا دیتا ہے ، جب چاہتا ہے۔ یہ قیامت کیوں برپا ہوگی ؟ جس کا حتمی اور جزی علم اللہ کو ہے جو صغیر و کبیر کا جاننے والا ہے ؟

لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ اللہ جزاء دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کیلئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔

یہ ہے اللہ کی حکمت ، اس کا ارادہ اور اس کی تدبیر۔ اللہ نے اس بات کو مقدر بنا دیا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد نیک کام کیے ان کو پوری جزاء دے اور ان لوگوں کو بھی سزا دے جنہوں نے اللہ کی آیات کی نیچا دکھانے کیلئے مقدر بھر کوشش کی۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کا ایمان اعمال صالحہ کے روپ میں نمودار ہوا۔ ان کے لیے مغفرت ہے ، ان معاملات کے لئے جو ان سے غلط ہوگئے اور تقصیرات ہوگئیں اور پھر مغفرت کے بعد ان کے لئے رزق کریم ہے۔ اس سورة میں رزق کا ذکر بہت آتا ہے ، مراد جنتیں ہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں رزق کریم ہیں۔

رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانے کی مساعی کیں اور تحریک اسلامی کے خلاف پوری قوت لگا دی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ رجز نہایت ہی برے عذاب کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے تحریک اسلامی کی خلاف سرگرمیاں دکھائیں ، تحریک کو ناکام کرنے کی سعی کی اور بری راہ پر جدوجہد کرتے رہے۔ یوں اللہ کی حکمت اور اس کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے اور ان لوگوں نے جو نظریہ اپنا رکھا ہے کہ آخرت برپا نہ ہوگی اسکی وجہ ان کی لاعلمی ہے۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ضرور آئے گی

ان لوگوں نے یقین کرلیا تھا کہ قیامت نہ آئے گی جبکہ وہ اللہ کے مخصوص غیوب میں سے ایک غیب ہے اور اللہ نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ضرور آئے گی۔ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم دے دیا کہ آپ ﷺ اس پیغام کو نشر کردیں اور یہ کہ ان کا یہ عقیدہ جہالت پر مبنی ہے۔ اہل علم بھی اس نتیجے تک پہنچے ہیں جس تک اہل ایمان پہنچے ہیں۔ یہی راستہ ہے اللہ عزیز وحمید کا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved