الذی احلنا دار المقامہ (35: 35) ” جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرایا “۔ ہمیشہ کیلئے رہائش پذیر کردیا اور مستقلاً ہم آباد ہوگئے۔ یہ کام اس نے اپنے فضل و کرم سے کیا کیونکہ ہم اپنے اعمال کے بل بوتے پر تو مستحق نہ تھے۔ یہ تو فضل تھا ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ بلکہ راحت ، اطمینان اور ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔
پوری فضا آرام ، راحت اور نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اور اس نرم و نازک اور پر لطف ماحول کے لیے اللہ نے الفاظ بھی نہایت ہی نرم و نازک چنے ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ حزن کو بھی یہاں حزن کہہ کر نرم و نازک کردیا گیا ہے اور جنت کے لیے دار المقامہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تکان اور مشقت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ چھو کر بھی نہ جاسکے گی۔ اور الفاظ اور فقروں کا ترنم اپنی جگہ نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ نہایت ہی دھیمی موسیقی کی طرح ۔