اللہ کی ذات کے بارے میں بدترین خیالات یہودیوں کی تحریف شدہ کتب کے اندر بھی درج ہیں ۔ لیکن قرآن نے ان کا جو قول نقل کیا ہے یہ ان کا ذات باری کے متعلق نہایت گھٹیا تصور ہے……………” وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم اسے لکھ لیں گے ۔ “ تاکہ ان کا محاسبہ کیا جاسکے ۔ ان کی یہ بات یونہی ہوا میں تحلیل نہ ہوجائے گی اور نہ ہی اسے مہمل اور لغو بات سمجھ کر چھوڑدیاجائے گا ۔ ان کی اس گستاخی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے سابق کرتوتوں کا ایک حصہ بھی یہاں ذکر کردیا جاتا ہے ۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ان کے ہم قوم ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ یہ سابقہ گناہ ان کے کھاتے میں اس لئے ڈالے جاتے ہیں کہ ان کی فطرت بدستور وہی ہے ۔ وہ اسی طرح نافرمان اور خطاکار تھے ۔
وَقَتْلَهُمُ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ……………” وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ “……بنی اسرائیل کی تاریخ نے قتل انبیاء کے اس مکروہ کام کے واقعات کو محفوظ رکھا ہے اور ان کا آخری کارنامہ وہ تھا جس میں انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی ۔ وہ تو اب بھی بہرحال یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پھانسی دلوادی تھی اور اس عظیم جرم پر وہ فخر کرتے ہیں۔
وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ……………” ہم ان سے کہیں گے کہ چکھو آگ میں جلنے کا عذاب۔ “ لفظ حریق یعنی جلنا اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اس عذاب کی خوفناکی نظروں میں آجائے ۔ اور یہ بات ذہن میں آجائے کہ یہ عذاب پاتے وقت آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں گے ‘ اور وہ اپنا کام ہولناک انداز میں کررہے ہوں گے ۔ آگ میں خوفناک جوش ہوگا۔ یہ اس لئے کہ ان کا یہ فعل بھی اسی قدر مکروہ ہے ۔ انبیاء کو قتل کردینا اور بغیر کسی جواز کے قتل کردینا اور پھر وہ جو بات کررہے ہیں وہ بھی بہت ہی گھٹیا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور وہ غنی ہیں۔