یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔