اس سبق کا خاتمہ ایک داعی کے خدو خال اور حوصلہ افزائی پر ہوتا ہے۔ اس کی روح ، اس کے الفاظ ، اس کے آداب اور اس کی میٹھی میٹھی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ان باتوں کی طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے تمام داعیوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ سورت کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ پیغمبروں اور داعیوں کے ساتھ عوام الناس کا رویہ کس قدر ظالمانہ ہوتا ہے۔ اور وہ کس قدر گستاخی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں داعی کو بتایا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کا منہاج دعوت یہ ہے۔
دعوت اسلامی کا کام ایک بہت بڑا اور کٹھن کام ہے ، داعی کو مخاطب کی پیچیدہ نفسیات کا ، اس کی جہالت کا ، اس کی عزت نفس ، اس کے استکبار کا ، اس کی خواہشات کا ، اس کے مفادات کا اور اس کے مرتبہ و مقام کا سامنا ہوتا ہے۔ صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت کی طرف دعوت دینا ، ان میں سے بیشتر چیزوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر یہ دعوت دینا اور ایک طبقاتی معاشرے میں دینا کہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ برابر ہیں ، ایسے حالات میں دعوت کی ذمہ داری اٹھانا حقیقت ہے کہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ لیکن مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک عظیم کام بھی تو ہے۔
ومن احسن قولا ۔۔۔۔۔۔ من المسلمین (33) ” اور اس شخص کی بات سے اور اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا میں مسلمان ہوں “۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھے ہیں ان کی دعوت اس عالم میں سب سے برگذیدہ دعوت ہے ، ان کے کلمے آسمانوں کی طرف پاکیزہ کلمات کی صورت میں بلند ہوتے ہیں ، لیکن داعی کی دعوت کے ساتھ اس کا عمل بھی ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ وہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو۔ اس کی ذات اس دعوت میں گم ہوجائے اور اس کے سب کام دعوت ہوجائیں اور اس کی تمام سرگرمیوں میں اس کا اپنا کچھ نہ ہو۔
اس کے بعد پھر داعی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ اس کی دعوت کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔ کوئی انکار کرتا ہے ، کوئی گستاخی کرتا ہے ، کوئی تکبر کرتا ہے ، بہرحال داعی ایک اچھا انداز لے کر ہی چلتا ہے۔ وہ تو بلند مقام پر ہوتا ہے۔ اس کا مخالف برائی لے کر آتا ہے۔ اس کا مخالف تو نہایت ہی گرے ہوئے مقام پر ہوتا ہے۔