واما ینزغنک ۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (41 : 36) ” اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ غصے میں کبھی اکساہٹ ہوتی ہے انتقام کی ، برائی کی وجہ سے بعض اوقات انسان صبر کی کمی محسوس کرتا ہے یا شرافت میں تنگ دلی محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہئے۔ اس سے وہ سوراخ بند ہوجائے گا جو شیطان کرنا چاہتا تھا۔
اللہ انسانی دل کا خالق ہے ، وہ اس کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اس کی طاقت اور حد برداشت کو بھی جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ شیطان کس سوراخ سے حملہ آور ہوتا ہے ۔ یہ داعی کے قلب کو گھیرتا ہے اور اکساتا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو بچانے والا ہے۔ کیونکہ یہ راستہ کٹھن ہے۔ یہ راہ بڑی دشوار گزار ہے ، نفس انسانی کے نشیب و فراز میں اور نفس انسانی کی پیچیدہ وادیوں میں داعی کو سفر کرنا ہوتا ہے تا کہ داعی گہرے نفسیاتی میلانات میں ہدایت اور قیادت کا حق ادا کرسکے۔