درس نمبر 228 ایک نظر میں
اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن انسان ہے کہ نافرمانی کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو الٹے معنی پہناتا ہے۔ قرآن کی آیات کے معنی بگاڑتا ہے ، حالانکہ قرآن مجید صاف عربی میں ہے۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ پھر خود اس کی زندگی کو پیش کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے۔ مال کا لالچی ہے اور جب کوئی مشکل پڑتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔ اور سورت کے آخر میں انفس و آفاق کے دلائل و نشانات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں پر حق واضھ ہوجائے اور ان کے دلوں کے شبہات دور ہوجائیں۔
یہ نشانیاں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں ، عالم بھی انہیں دیکھ سکتا ہے اور جاہل بھی ، انسانی دل پر ان کے براہ راست گہرے اثرات بھی ہیں۔ اگرچہ انسان ان کی سائنسی حقیقت بالکل نہ جانتا ہو ، کیونکہ انسان اور اس کائنات کے درمیان ، سائنسی علم سے بھی زیادہ گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ فطرت دونوں کی ایک ہے ، ساخت ایک ہے ، انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور یہ کائنات انسان ہی کا حصہ ہے۔ دونوں کا مادۂ وجود ایک ہے ، فطرت ایک ہے اور جس قانون قدرت کے مطابق انسان چلتا ہے ، اس کے مطابق یہ کائنات بھی چلتی ہے ۔ دونوں کا الٰہ ایک ہے۔ اس لیے انسان اس زمین و آسمان کے بارے میں ایک گہرا احساس اور گہرا فطری ادراک رکھتا ہے۔ اور یہ ادراک اسے گہری فطری منطق کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اس پر اکتفا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور اسے غفلت سے جگا دے اور یہ غفلت انسانوں پر اس لیے طاری ہوجاتی ہے کہ انہوں نے گردش لیل ونہار اور شمس و قمر کو دیکھتے دیکھتے اب ان کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں رہی ہے۔ ان کے دل و دماغ پر پردے آگئے ہیں ، اس لیے قرآن انسان کو جگاتا ہے ، ان کی سوچ کو صیقل کرتا ہے کہ ذرا ان معجزات پر غور کرو ، یہ تمہاری دوست کائنات کا حصہ ہیں ، تم لیل و نہار اور شمس قمر کے ساتھ رہتے ہو۔
شمس و قمر کے حوالے سے ایک گمراہی اور فکری انحراف کی طرف بھی متوجہ کردیا۔ بعض لوگ شمس و قمر کی پوجا کرتے تھے تا کہ اس طرح وہ اللہ کا تقرب حاصل کرلیں ، کیونکہ اللہ کی بہترین مخلوق کے سامنے سجدہ کرنا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہاں حتمی طور پر اس انحراف کی تصحیح بھی کردی اور عقائد کی آلودگی کو صاف بھی کردیا۔ اگر تم فی الحقیقت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر شمس و قمر کی عبادت نہ کرو ،
واسجدوا للہ الذی خلقھن (41 : 37) ” بلکہ اس خدا کی بندگی کرو ، جس نے ان کو پیدا کیا ہے “۔ مخلوق کو صرف خالق کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ، اور شمس وقمر بھی تمہاری طرح اللہ ہی کے پیرو کار ہیں۔ اللہ نے ان دو شمس و قمر کو پیدا کیا ہے اور ان دو کے لئے یہاں جمع مونث کی ضمیر استعمال کی ہے ۔ کیونکہ یہاں جنس ستاروں اور سیاروں کی طرف اشارہ ہے۔ صرف یہ دو مراد نہیں اور پھر جمع مونث عاقل کی خبر ان کی طرف اس لیے راجع کی گئی ہے کہ یہ بھی تمہاری طرح اشخاص ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
ان آیات و نشانات اور اس تبلیغ وبیان کے بعد بھی اگر وہ تکبر کرتے ہیں ، تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تقدیم و تاخیر واقع نہیں ہوتی ، اللہ کے ہاں بیشمار مخلوقات اس کی عبادت میں لگی ہوئی ہیں۔