اس کا قریب الفہم مفہوم تو یہی ہے کہ اللہ کے پاس کی مخلوق سے مراد ملائکہ ہیں۔ لیکن اللہ کے مقرب بندوں پر مشتمل کوئی اور مخلوق بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ اللہ کی مخلوقات کے بارے میں تو ہم بہت کم جانتے ہیں۔
وہ لوگ جو رب کے ہاں ہیں وہ ارفع و اعلیٰ مخلوق ہیں ، وہ زیادہ مکرم اور مثالی لوگ ہیں۔ یہ اللہ کے مقابلے میں اس طرح کبر نہیں کرتے جس طرح زمین کی یہ کمزور مخلوق انسان کرتا ہے ، نہ وہ اس طرے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقربین ہیں اور نہ وہ رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کی تسبیح کرنے سے رکتے یا تھکتے ہیں۔
وھم لا یسئمون (41 : 38) ” کبھی نہیں تھکتے “۔ لہٰذا اگر اہل امین سب کے سب ہی اللہ کی بندگی چھوڑ دیں تو اللہ کی پرستش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ذرا اس زمین کو تو دیکھیں جس میں وہ رہتے ہیں ، جس سے وہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور جس کی طرف لوٹا کر دفنائے جائیں گے۔ یہ زمین جس کے اوپر یہ چیونٹیوں جیسے پھرتے ہیں ان کے کھانے پینے کا کوئی سامان بھی اس زمین کے سوا کہیں نہیں ہے۔ یہ زمین بھی نہایت خشوع میں اللہ کے سامنے سہمی ہوتی ہے۔ مردہ ہوجاتی ہے تو اللہ ہی اسے زندہ اور سرسبز و شاداب کردیتا ہے۔