اب اس قدر تفصیلات کے بعد اور کائناتی شواہد و دلائل کے بعد اگر لوگ ان نشانیوں کو الٹے معنی پہناتا ہے یا قرآن کی آیات میں الحاد کرتے ہیں تو وہ تیار ہوجائیں اپنے انجام کے لئے۔ یہ لوگ اللہ کی واضح آیات کا انکار کرتے ہیں اور ان میں مغالطے ڈالتے ہیں۔
یہ تہدید اگرچہ بالواسطہ اور مجمل ہے لیکن نہایت ہی خطرناک ہے۔
لا یخفون علینا (41 : 40) ” وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں “۔ اللہ کے علم میں وہ بالکل سامنے ہیں۔ لہٰذا وہ جو الحاد کرتے ہیں ، قرآن کے معنوں کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔ اس پر ان کو سزا ہوگی۔ اگرچہ وہ مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں مغالطہ ڈال کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے آزاد کرتے ہیں ۔ یا لوگون کے سامنے بہانہ بنا لیتے ہیں۔
اس اجمالی ڈراوے کے بعد قدرے تصریح
افمن یلقی ۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (41 : 40) ” خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ قیامت کے دن امن کی حالت میں حاضر ہوگا “۔ یہ دھمکی کی تصریح ہے کہ آگ میں پھینکا جانا اور جزع فزع تمہارے انتظار میں ہے جبکہ مومن نہایت امن و اطمینان کے ساتھ آئیں گے۔
اس آیت میں ایک دوسری دھمکی بھی ہے۔
اعملوا ما شئتم انہ بما تعلمون بصیر (41 : 40) ” کرتے رہو جو تم چاہو ، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ کس قدر بد بخت ہے وہ شخص جسے ہر کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ وہ جس طرح چاہے اللہ کی آیات میں مغالطے ڈالے اور اللہ اس کے تمام کرتوتوں کو نوٹ کر رہا ہو۔