ولو جعلنہ ۔۔۔۔۔ وعربی (41 : 44) “ اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ، کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں۔ کیا ہی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی ”۔ یہ لوگ ایک عربی قرآن کی طرف کان نہیں لگاتے ، کیونکہ یہ اس کی بےپناہ تاثیر سے ڈرتے ہیں۔ یہ عربی کلام ہے اور عربوں کی فطرت سے مخاطب ہوتا ہے ، ان کی اپنی زبان میں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو۔ جب پڑھا جائے تو شور کرو ، اسی طرح تم غالب ہوگے۔ تو اگر یہ عجمی ہوتا تو پھر بھی یہ اس پر اعتراض کرتے کہ کیوں نہ قرآن عربی میں نازل ہوا ، کیوں نہ مفصل اور فصیح زبان میں آیا اور اگر اس کا بعض حصہ عربی ہوتا اور بعض عجمی ہوتا تو پھر کہتے تو پھر کہتے کہ عربی و عجمی ، غرض ان کا مقصد ہر صورت میں اعتراض کرنا ہے۔
اور اس بحث وجدال سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جھگڑا صرف الفاظ اور زبان کے بارے میں ہے۔ اور قرآن کی تعلیمات کے بارے میں نہیں ہے۔ تعلیمات کے لحاظ سے یہ مومنین کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ مومنین کے دل ہی اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس سے رہنمائی اور شفا پاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان ہی نہیں لاتے ان کے دل اندھے ہیں ، ان تک قرآن کی روشنی ہی نہیں پہنچتی۔ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ وہ دلوں کے اندھے ہیں ، لہٰذا ان کو اس کتاب میں سے کچھ بھی نہیں ملتا۔ کیوں ؟ یہ لوگ اس کتاب کے مزاج ہی سے بہت دور ہیں ، اس کی آواز ہی کو نہیں سمجھتے۔
قل ھو للذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من مکان بعید (41 : 44) “ ان سے کہو ، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے تو ہدایت اور شفا ہے ، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لئے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دور سے پکارا جا رہا ہو ”۔ اس آیت کا اطلاق جن لوگوں پر ہوتا ہے وہ ہر زمان ومکان اور ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ یہ قرآن ان کے نفوس میں اثر کرتا ہے اور ان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنے ماحول میں عظیم لوگ بن جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل و دماغ پر یہ قرآن بہت بھاری لگتا ہے۔ اور ان کو سنایا جائے تو یہ ان کو اور اندھا اور بہرا کردیتا ہے ۔ قرآن تو وہی ہے ، دلوں کا فرق ہے۔
٭٭٭٭
قرآن کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب اور اس کے بارے میں ان کی قوم کے اختلافات کو بھی بیان کردیا جاتا ہے۔ یہاں بطور نمونہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے تمام رسولوں کا ذکر مجموعی طور پر ہوا۔ یہاں کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کے اختلافات کو بھی مجمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہہ دیا گیا ہے کہ ان کا فیصلہ یوم عظیم یعنی قیامت کے دن ہوگا۔