آیات گزشتہ میں قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس میں اللہ کی جانب سے سب کے ساتھ انصاف کرنے کی طرف بھی اشارہ تھا کہ کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اس لیے یہاں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ وحدہ کو ہے۔ اس ضمن میں اللہ کے علم کی تصویر کشی بھی کردی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں کتنی گہرائیاں اور تفصیلات رکھتا ہے۔ بعض مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد قیامت کا ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مشرکوں سے سوال و جواب ہوتے ہیں :
قیام قیامت ایک ایسا غیب ہے جو مجہول اور مستقبل کے ضمیر میں گہرا پوشیدہ ہے۔ اسی طرح شگوفوں میں سے جو پھل مستقبل میں برآمد ہوتے ہیں ان کو بھی صرف اللہ جانتا ہے۔ اسی طرح رحم میں حمل بھی غیب ہے ، جو چھپا ہوا ہے۔ یہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ انسانی سوچ ان پھلوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے جو پھولوں اور کلیوں سے نکلتے ہیں ، ان بچوں کے پیچھے جو ماؤں کے رحم میں ہیں ، ہماری سوچ اس وسیع زمین کے نشیب و فراز میں دوڑ رہی ہے اور لاتعداد پھولوں اور شگوفوں کے بارے میں سوچتی ہے ۔ پھر ہر مادہ کے رحم میں موجود بچے جن کی تعداد متعین کرنا انسان کے دائرہ قدرت میں نہیں ہے ، تمام انسانوں ، حیوانوں کی عادیاں ، چرندوں پرندوں اور حشرات کی مادیاں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا را ہوار خیال تھک کر گر گر پڑتا ہے۔ اللہ کے علم کے حدود کا تصور بھی ممکن نہیں کہ وہ لامحدود ہے۔
انسانوں میں سے گمراہوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ ، ایک دن اس علم کا سامنا کرے گا اور اس علم کے دائرے سے تو کوئی چیز باہر نہ ہوگی۔
ویوم ینادیھم این شرکاءی (41 : 47) “ پھر جس روز وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک ؟ ” اس وقت بھی کوئی جھگڑا ، مجادلہ اور مغالطہ کام نہ دے گا ، نہ زبان کی تحریف و تاویل چل سکے گی تو وہ پھر کیا کہہ سکیں گے اس کے سوا :
قالوا اذنک ما منا من شھید (41 : 47) “ یہ کہیں گے ہم عرج کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ”۔ اے اللہ ہم نے تو تجھے اطلاع کردی ہے کہ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا گواہ نہیں ہے۔