یہ کس قدر خوفناک دن ہے لیکن انسان اس کے بارے میں بالکل محتاط نہیں ہے۔ انسان ہر قسم کی بھلائی کے لئے بہت ہی حریص ہے۔ لیکن قیامت کی بھلائی کی وہ ذرا بھی فکر نہیں کرتا۔ انسان معمولی مصیبت پر جزع فزع کرنے لگتا ہے۔ لیکن قیامت کے ہولناک جزع فزع کا اسے خیال نہیں ہے۔ یہاں انسان کے نفس کی اندرونی تصویر کھینچی جاتی ہے۔ تمام لباس اور پردے اتار دئیے جاتے ہیں اور ہر قسم کی ملمع کاری کو ہٹا کر نقش انسانی کا اصل رنگ دکھایا جاتا ہے۔
نفس انسانی کی یہ نہایت ہی سچی تصویر ہے۔ نہایت ہی باریک خدو خال کو بھی اس میں نمایاں کیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کی ہدایات پر ایمان نہیں رکھتے ، جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، وہ تو بالکل سیدھی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ، ان کا ایک ہی رنگ ڈھنگ ہوتا ہے۔ لیکن گمراہ لوگوں کی نفسیات کیا ہیں ، یکدم بدلنے والے ، ضعیف الارادہ ، دکھاوے کے شیدائی ، مال کے لالچی ، ناشکرے ، خوشحالی میں مغرور اور بدحالی میں آہ وفغان کرنے والے ، غرض یہ نہایت ہی تفصیل تصویر ہے ان لوگوں کی اور عجیب تصویر ہے۔
انسان بھلائی کی دعا مانگتے نہی تھکتا۔ وہ بڑے اصرار اور گڑگڑا کر دعائے خیر کرتا ہے۔ اور دعا کرتے ہوئے نہیں تھکتا لیکن شر اگر محض اس کو چھو کر بھی گزر جائے تو وہ تمام امیدیں کھو دیتا ہے ، مکمل طور پر مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ خیال کرتا ہے کہ اس شر سے تو اب نکلنے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ یوں وہ سمجھ لیتا ہے کہ سب اسباب و وسائل ختم ہوگئے۔ اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے ، مغموم و متفکر ہوجاتا ہے۔ اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں سے مایوس ہوجاتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کا اپنے رب پر بھروسہ نہیں ہوتا اور رب سے اس کا تعلق کمزور ہوتا ہے۔
لیکن یہی انسان ، جب اللہ اس پر اپنی رحمتیں اور مہربانیاں کرتا ہے ، یہ مصیبت جاتی رہتی ہے ، تو اللہ کی نعمتیں اسے ۔۔۔ اور متکبر کردیتی ہیں۔ یہ شکر نہیں بجا لاتا۔ اب خوشحال اسے آسمانوں پر چڑھا دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے یہ تو میرا فرض ہے۔ میں اپنی صلاحیت پر اس کا مستحق ہوا ہوں اور یہ حق داعی ہے۔ یہ شخص آخرت کو بھول جاتا ہے اور اسے بعید از امکان سمجھتا ہے۔ کہتا ہے۔