Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
42:49
لله ملك السماوات والارض يخلق ما يشاء يهب لمن يشاء اناثا ويهب لمن يشاء الذكور ٤٩
لِّلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَـٰثًۭا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ ٤٩
لِّلَّهِ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
يَخۡلُقُ
مَا
يَشَآءُۚ
يَهَبُ
لِمَن
يَشَآءُ
إِنَٰثٗا
وَيَهَبُ
لِمَن
يَشَآءُ
ٱلذُّكُورَ
٤٩
To Allah ˹alone˺ belongs the kingdom of the heavens and the earth. He creates whatever He wills. He blesses whoever He wills with daughters, and blesses whoever He wills with sons,
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 42:49 to 42:50

آیت نمبر 49 تا 50

اولاد کسی شخص پر فضل و کرم ہونے یا اس سے محروم ہونے کی بڑی نشانی ہے۔ پھر اولاد انسانی نفس کے بہت ہی قریب پسندیدہ چیز ہے ۔ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی پر اللہ کے فضل ہونے یا اس سے محروم ہونے کے حوالے سے یہ بہت ہی حساس اور قوی الاثر چیز ہے۔ اس سورت میں رزق کے اعتبار سے خوشحالی اور بدحالی کی بات گزر چکی ہے۔ یہاں اولاد کے حوالے سے بھی انسان کے نصیب کی بات کردی تا کہ مال و الاد دونوں کی بات ہوجائے ، کیونکہ اولاد بھی اللہ کی طرف سے ایک بہترین رزق ہے۔ مال کی طرح بلکہ اس سے پیارا۔

جہاں بھی اللہ کے ملک کی بات ہوتی ہے وہ ملک سماوات اور پوری زمین سے شروع ہوتی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ عام مالک ہے۔ اسی طرح یخلق ما یشاء (42 : 49) “ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ” ۔ تخلیق کا ذکر بھی یہاں نہایت مناسب اور معنی خیز ہے۔ یہاں اولاد کو زندہ کرنے اور عطا کرنے کا مضمون ہے۔ اس کے ساتھ صفت تخلیق کا ذکر مناسب ہے۔ انسان کو بتایا گیا کہ تم جو پسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے۔ وہی دینے والا اور وہی محروم کرنے والا ہے۔

اب حالات دادو دہش اور حالات محرومیت کی تفصیلات ۔ اللہ جسے چاہتا ہے عورتیں دیتا ہے اور یہ لوگ عورتوں کو پسند نہ کرتے تھے ( جس طرح آج بھی نہیں کیا جاتا) یہ تو اللہ ہے کہ کسی کو لڑکے ، کسی کو لڑکیاں اور کسی کو دونوں دیتا ہے۔ اور کسی کو اس میٹھے پھل سے صاف صاف محروم کردیتا ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اس میں اللہ کے سوا کسی کا دخل نہیں ہے ، وہ اپنے علم وقدرت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔

انہ علیم قدیر (42 : 50) “ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ”۔

٭٭٭٭

سورت کے خاتمہ پر موضوع اول سامنے آتا ہے جس پر اس پوری سورت میں بات ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسالت اور وحی کی حقیقت یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس عمل میں بندے اور خدا کے درمیان رابطہ کس طرح ہوتا ہے ، اور اس کی صورتیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ رابطہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہوچکا ہے اور اس کے نہایت ہی بلند مقاصد ہیں یہ کہ جو صراط مستقیم کی طرف آنا چاہے اسے لایا جائے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved