آیت نمبر 27 تا 28
آیت میں پہلے تو ان کے انجام کا فیصلہ جلدی سے بتا دیا گیا کہ اس دن یہ لوگ عظیم خسارے سے دو چار ہوں گے لیکن فیصلہ سننے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم اور وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں اولین اور آخرین تمام امتیں جمع ہیں۔ جو شخص کبھی اس کرۂ ارض پر زندہ رہا ہے ۔ تھوڑی عمر ملی ہو یا زیادہ ، یہ سب موجود ہیں۔ مجرمین گھٹنوں کے بل گرے ہیں۔ گروہ در گروہ جمع ہیں۔ اور حساب کی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی خوفناک ہے کہ تمام انسان اگلے اور پچھلے ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ لوگوں کی ہیئت کذائی خوفناک ہوگی کہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ پھر یہ خوفناک اس لیے بھی ہوگا کہ سخت حساب و کتاب ہونے والا ہوگا۔ اور پھر یہ اس لیے بھی خوفناک ہوگا کہ اللہ جبار وقہار کا دربار ہوگا۔ جو حقیقی منعم اور فضل و کرم کرنے والا ہے۔ جس کے فضل وکرم کا شکر ادا نہیں کیا گیا اور نہ اس کے فضل وکرم کو لوگوں نے پہچانا ہے۔
اس کے بعد اس بدحال گروہ مجرمین سے کہا جائے گا جن کا منہ خشک ہوگا اور سانس اکھڑ رہی ہوگی :