ابشر ........ وسحر (45:4 2) ” ایک اکیلا آدمی جو ہم میں سے ہے اس کے پیچھے چلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے یا ہم جہنم رسید ہوگئے۔ “ اگر ہم سے یہ منکر فعل واقع ہوگیا۔ جب عقل ماری جاتی ہے تو انسان ہدایت کو ضلالت سمجھتا اور سمجھتا ہے کہ وہ گویا بہت زیادہ تعداد والی جہنموں میں داخل ہوگا۔ (سعر جمع سعیر ہے) حالانکہ دعوت قبول کرکے وہ ایمان کے سایہ میں آجاتا لیکن سمجھتا ہے کہ اگر ایمان لایا تو جہنموں میں داخل ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جس رسول کو اللہ نے ان کی رہنمائی کے لئے بھیجا تھا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا اور لالچی ہے۔