ءاشفقتم ................ بما تعملون (85 : 31) ” کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو ........ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ........ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس بےباخبر ہے۔ “
ان دونوں آیات اور ان کے شان نزول میں وارد احادیث کے فلسفے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے معاملات میں مسلمانوں کی تربیت کے لئے اور اسلامی جماعت کو تیار کرنے کے لئے کس قدر جدوجہد کی گئی۔
اب سیاق کلام منافقین کی طرف پھرتا ہے۔ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ گہری دوستی اور راہ ورسم رکھتے تھے ۔ ان کے بعض حالات کھولے جاتے ہیں اور ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تمہارے سب کرتوت اب چھپے نہیں رہے اور تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ دعوت اسلامی تمہاری تمام سازشوں کے باوجود اب کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔