الم ترالی ........................................ ھم المفلحون
یہ منا یقین پر ایک تنقیدی حملہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی قوم سے دوستی کررہے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں کے خلاف نہایت گہری چالیں چلتے تھے اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمنوں یعنی یہودیوں کے ساتھ مل کر یہ سازشیں تیار کرتے تھے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اقتدار مستحکم ہوگیا تھا۔ کیونکہ جب ان پر رسول اللہ اور مسلمان تنقید کرتے تھے اور ان سے باز پرس کرتے تھے تو یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ حالانکہ رسول اللہ اور مسلمان جو بات کرتے تھے وہ اللہ کی طرف سے فراہم کردہ انکشافات پر مبنی ہوتی تھی۔ جب وہ حلف اٹھاتے تھے تو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ وہ اپنی قسموں کی آڑ میں اپنے آپ کو اس مواخذے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ ان کی تمام سازشیں اسلامی حکومت کی طرف سے قابل مواخذہ تھیں۔
اتخذوا ................ جنة (85 : 61) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ “ اس طرح وہ اپنی سازشیں جاری رکھی ہوئے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
ان آیات کے درمیان اللہ نے ان کو بار بار دھمکی دی۔