الذین ........................ لعفو غفور (85 : 2) ” تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں بہنیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ “
مسئلے کا حل نہایت ہی گہرائی سے کردیا گیا۔ ایام جاہلیت میں ظہار کا جو قانون مروج تھا وہ تھا ہی بےبنیاد ، بیوی ماں تو ہوتی نہیں کہ وہ ماں کی طرح حرام ہوجائے۔ ماں تو صرف وہ ہوتی ہے جس نے جنا۔ ایک لفظ کہنے سے نہ بیوی ماں بن جاتی ہے جو حرام ہوجاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ناپسندیدہ کلمہ ہے۔ حقیقت اس کی منکر ہے۔ سچائی اس کی منکر ہے ، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ سوشل معاملات واضح اور متعین ہوں۔ مجمل ، مضطرب اور پیچیدہ نہ ہوں اور سابقہ معاملات اور حادثات اللہ نے معاف کردیئے۔
وان اللہ لعفو غفور (85 : 2) اصل مسئلے کے سلسلے میں فیصلہ دینے کے بعد اب قانون سازی یوں کی جاتی ہے :