فمن لم ................ مسکینا (85 : 4) ” اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ “
اب اس قانون کے توضیحی بیان اور مسلمانوں کو ہدایت کے لئے تبصرہ آتا ہے۔
ذلک لتومنو باللہ ورسولہ (85 : 4) ” یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ “ وہ تو پہلے سے مومن ہیں ؟ لیکن یہ بیان کہ یہ کفارات اور جرمانے اور ان کے حالات کو اللہ کے احکام وقوانین سے مربوط کرنے سے ایمان میں قوت اور اضافہ ہوتا ہے۔ عملی زندگی ایمان کے ساتھ مربوط ہوتی ہے اور عملی زندگی پر ایمان کا کنٹرول قائم ہوتا ہے۔
وتلک ........................ الیم (85 : 4) ” یہ اللہ کی مقرر کی گئی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لئے درد ناک سزا ہے۔ “ یہ حدیں اللہ نے اس لئے قائم کی ہیں کہ لوگ ان حدوں سے آگے نہ بڑھ جائیں۔ اور جو شخص ان کا خیال نہیں رکھتا اور ان سے ادھر ہی رک کر نہیں رہتا اس کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔
وللکفرین عذاب الیم (85 : 4) ” اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ کیونکہ وہ ظلم کرتے ہیں ، اللہ کو چیلنج کرتے ہیں ، ایمان نہیں لاتے۔ اللہ کی حدود پر نہیں رکھتے ، جس طرح اہل ایمان رکتے ہیں۔
یہ آخری عبارت وللکفرین عذاب الیم (85 : 4) ” اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ سابقہ آیت کے خاتمے کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور آنے والی آیت کا سابق آیت کے ساتھ رابطہ بھی قائم کردیتی ہے۔ جس کا موضوع یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے۔