پہلے پیراگراف میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ اہل اسلام کے ساتھ کس قدر مہربانی کرنے والا ہے اور جماعت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کے لئے وہ ہر وقت تیار ہے۔ یہ دوسرا پیراگراف کافروں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور رسول اللہ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں یعنی وہ مسلمانوں کی حدود پر متضاد اور مخالفانہ موقف اختیار کرتے ہیں اور محاذ آرائی کرتے ہیں۔ پہلے چونکہ حدود اللہ کا ذکر ہے اور حدود پر جو جھگڑتا ہے وہ دشمن ہوتا ہے یعنی سرحدوں پر جو لڑتا ہے اس لئے یہاں ایسے دشمنان اسلام کا ذکر کردیا گیا۔ جو رسول اللہ کے مقابلے میں حد پر کھڑے ہیں اور مقابلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس سے دو مقابل فریقوں کی ایک تصویر دی گئی جو حدود پر لڑتے ہیں۔ اس سے کافروں کے اس فعل کی قباحت اور گھناؤنے پن کا اظہار مقصود ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ اپنے خالق اور رازق سے لڑنے نکل آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کی حدوں پر اپنی شیطانی افواج جمع کررکھی ہیں۔
کبتوا .................... قبلھم (85 : 5) ” اسی طرح ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جاچکے ہیں۔ “ راجح بات یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے لئے بددعا ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا دراصل حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تو فعال لما یرید ہے۔ کبت کے معنی قہر نازل ہونے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ پہلے لوگوں سے مراد یا تو وہ ہیں جو گزر چکے ، انبیائے سابقہ کی امتیں۔ جن کو اللہ نے اسی جرم میں پکڑ لیا ان سے مراد وہ مشرکین اور یہود ہیں جن کو مسلمانوں کے ذریعہ اللہ نے ذلیل کردیا تھا ، ان آیات کے نزول سے پہلے ، مثلاً غزوہ بدر میں۔
وقد .................... بینت (85 : 5) ” ہم نے تو صاف صاف آیات نازل کردی ہیں۔ “ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کو مفصل اور جدا کرکے بیان کیا ہے جو اللہ اور رسول سے دشمنی کرتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ اس لئے کہ یہ انجام جو ان آیات میں بیان ہوا ہے وہ لوگ اس انجام تک کسی جہالت کی وجہ سے نہیں پہنچ رہے یا اس لئے اس انجام تک نہیں پہنچ گئے کہ ان کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ بلکہ ان کو بات بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھادی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کا اخروی انجام نہایت ہی سبق آموز انداز میں لایا جاتا ہے تاکہ اہل ایمان کی اصلاح اور تربیت ہو۔
وللکفرین .................... شھید (85 : 6) ” اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اس دن (یہ ذلت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا۔ اور انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھڑاگن گن کر محفوظ کررکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ “
یہاں تو توہین آمیز عذاب ، ان کے تکبر کے بدلے ، ان کو دیا جائے گا۔ جب لوگوں کو اللہ اٹھائے گا تو ان نام نہاد بڑوں کو اللہ عوام کے سامنے توہین آمیز عذاب دے گا۔ یہ وہ عذاب ہوگا جو حق پر دیا جائے گا۔ اور ان کا مفصل اعمال نامہ اس کی پشت پر ہوگا جسے یہ اس دن بڑی بےپرواہی سے بھول جائیں گے۔ حالانکہ اللہ نے اسے یوں تیار کیا ہوگا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی باقی نہ رہی ہوگی کیونکہ اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔
وللہ .................... شھید (85 : 6) ” اور اللہ ہر ایک چیز پر گواہ ہے۔ “
یہاں رعایت اور فضل وکرم اور جنگ اور انتقام کی دونوں تصاویر آمنے سامنے ہیں۔ اللہ کا علم اور موجود گی ہر جگہ ہے۔ وہ رعایت امداد اور مہربانی کے لئے بھی حاضر ہے اور وہ جنگ اور انتقام اور دشمنوں کو عذاب دینے کے لئے بھی حاضر ہے۔ لہٰذا اللہ کے حضوری اور موجودگی پر اہل ایمان مطمئن ہوجائیں اور کافر اور دشمن خوفزدہ ہوجائیں۔
یہ کہ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ اب یہاں اس کی ایک زندہ تصویر پیش کی جاتی ہے۔ یہ اس قدر موثر ہے کہ قلب و شعور کی تاروں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔