الم ترالی .................... المصیر (85 : 8) ” کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں ، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں منافقین کے بارے میں حضور ﷺ کا منصوبہ نہایت روادارانہ اور ان کے ساتھ آپ کا رویہ نہایت ہی ہمدردانہ تھا۔ آپ ان کو یہی نصیحت فرماتے ہیں کہ اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کرلیں۔ اور آپ ان کو بار بار نجویٰ ، سازشوں اور خفیہ تدابیر سے روکتے تھے۔ اور منافقین یہ کام یہودیوں کے ساتھ مل کر کرتے تھے۔ بلکہ یہ تمام کام مشرکین اور منافقین یہودیوں کے اشاروں پر کرتے تھے۔ لیکن حضور ﷺ کے مخلصانہ رویہ کے باوجود انہوں نے اپنی ان سازشوں اور خفیہ تدابیر اور نجویٰ کے کام کو اور تیز کردیا۔ اور اس کے لئے انہوں نے ایسے ذرائع اور تدابیر بھی شروع کردیں کہ حضور ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی جائے۔ اور مسلمانوں کے معاملات اور اسلامی نظام میں فساد برپا کرکے خلل ڈالا جائے۔
یہ لوگ اپنے کام میں اس قدر تیز اور جری ہوگئے تھے کہ انہوں نے اسلامی حکومت کے احکامات میں فساد ڈالنے کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کے ساتھ علیک سلیک کے اندر بھی فساد پیدا کردیا تھا۔ اور السلام علیکم کے معنی میں بھی تبدیلی کردی تھی۔
واذا جائ ........................ بہ اللہ (85 : 8) ” اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے “۔ یہ منافقین اور یہودی السلام علیکم کی جگہ السام علیکم کہتے تھے۔ یعنی یہ کہ تم پر موت آجائے۔ اسی طرح انہوں نے کچھ دوسرے الفاظ بھی گڑھ لئے تھے جن کا ظاہر تو اچھا تھا مگر باطن میں وہ ان سے غلط مراد لیتے تھے اور پھر وہ کہتے تھے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اسے ہماری ان باتوں کا علم ہوتا یا ان مجالس کا علم ہوتا جن میں ہم اس کے خلاف تدابیر اور سازشیں کرتے ہیں۔
اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ کو سب کچھ بتا دیا تھا۔ وہ بھی جو یہ اپنے دلوں میں سوچتے تھے اور وہ بھی جو سازشیں وہ اپنی مجلسوں میں کرتے تھے۔ کیونکہ سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا کہ جو عورت اپنے خاوند کے بارے میں تکرار کررہی تھی اس کی باتیں اللہ نے سن لیں۔ اور یہ کہ اگر تین آدمی نجویٰ کریں تو چوتھا اللہ ہوتا ہے ، اگر چار کریں تو پانچواں اللہ ہوتا ہے نیز ان کے نفوس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی اللہ کو معلوم ہے۔ اور اس کے بعد ان کی باتوں کی یہ تردید کردی گئی۔
حسبھم .................... المصیر (85 : 8) ” ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے۔ اسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی برا انجام ہے ان کا۔ “
ان کی خفیہ سازشوں کا انکشاف ، ان کے نجویٰ کا انکشاف خصوصاً جبکہ حضور کی جانب سے ممانعت کے باوجود انہوں نے کیا ، پھر وہ جو دلوں میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اسے ہماری یہ کاروائیاں معلوم ہونی چاہئیں ۔ ان باتوں کا انکشاف ، غرض یہ سب انکشافات اس بات کی دلیل ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر بات کا اللہ کو علم ہے اور اللہ پر نجویٰ میں موجود ہیں ، وہ خفیہ اجماع کا شاہد ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں منافقین کے لئے تو خوفناک تھیں کہ ان کے تمام امور طشت ازبام ہوچکے ہیں جبکہ اہل ایمان کے لئے اطمینان اور بھروسے کا باعث بنیں۔
اب خطاب اہل ایمان کو ہورہا ہے ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، کہ تم منافقین کی طرح نجویٰ نہ کرو ، گناہ کی باتوں میں ، دشمنی کی باتوں میں ، رسول کی نافرمانی میں ، بلکہ جو بات بھی کرو خدا خوفی کے ساتھ کرو ، اس قسم کا نجویٰ دراصل شیطان کے اشارے سے ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ شیطان مومنین کو پریشان کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا نجویٰ مومنین کے لائق نہیں ہے۔