Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
59:17
فكان عاقبتهما انهما في النار خالدين فيها وذالك جزاء الظالمين ١٧
فَكَانَ عَـٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِى ٱلنَّارِ خَـٰلِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٧
فَكَانَ
عَٰقِبَتَهُمَآ
أَنَّهُمَا
فِي
ٱلنَّارِ
خَٰلِدَيۡنِ
فِيهَاۚ
وَذَٰلِكَ
جَزَٰٓؤُاْ
ٱلظَّٰلِمِينَ
١٧
So they will both end up in the Fire, staying there forever. That is the reward of the wrongdoers.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 59:16 to 59:17

کمثل الشیطن .................... الظلمین (71) ” ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر ، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ، اور ظالموں کی یہی جزا ہے “۔

شیطان انسانوں کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک منافقین اہل کتاب کافروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن انسان ہیں کہ پھر اس کے کہے پر چلتے ہیں۔ یہ ایک دائمی حقیقت ہے اور قرآن کریم اس عارضی واقعہ کے حوالے سے اسے یہاں بیان کردیتا ہے کہ اس طرح اس جزئی واقعہ سے بھی ایک دائمی اور کلی نصیحت و حکمت اخذ کی جائے اور یوں بات کا دائرہ وسیع ہوجائے۔ اور بات صرف ایکجزئی واقعہ تک محدود نہ رہے۔ قرآن کا یہ اندازہ ہے کہ قرآن دائمی ، اور اعلیٰ حقائق کو بھی ایک جزء کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ کیونکہ محض کلی اور اصولی باتیں خشک فلسفہ بن جاتی ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل و دماغ پر ان کا وہ اثر نہیں ہوتا جس طرح ایک مثال اور واقعہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ہے فرق قرآن کے انداز بیان کا اور فلاسفہ اور مدرسین کے انداز بیان کا۔ فلاسفہ صرف فارمولوں کی شکل میں بات کرتے ہیں۔

اس مثال پر بنی نضیر کا قصہ ختم ہوتا ہے اور اس قصے کے درمیان قرآن نے اس قدر حقائق ہدایات اور تصاویر بیان کیں اور ان کی وجہ سے اس جزوی قصے کو آفاقی بنادیا گیا یا اعلیٰ حقائق کو اس قصے کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اور یہ واقعہ ادھر زمین پر چلتا رہا اور ادھر انسانی ضمیر کی اصلاح کا کام کرتا رہا۔ یوں یہ واقعہ ایک واقعہ سے زیادہ درس حکمت اور موجب ہدایت اور عبرت بن گیا۔ انداز بیان اس واقعہ اور ان حقائق کا اللہ کی کتاب میں کچھ اور ہے اور انسان اسے جس طرح بیان کرتے ہیں وہ کچھ اور ہے۔

بنی نظیر کے واقعہ کا یہ بیان ، اس پر تبصرے اور اس کے ضمن میں عظیم حقائق کا بیان اور ہدایات کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اس پیارے لفظ اور پیاری صفت سے کیا جاتا ہے ” اے اہل ایمان “ تاکہ وہ اسے جلدی سے قبول کرلیں۔ سہولت سے عمل پیرا ہوں۔ ان سے کہا جاتا ہے تقویٰ کی راہ اختیار کرو ، یہ دیکھو کہ کل یوم الحشر کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے ، اللہ کو بھول نہ جاؤ جس طرح پہلے لوگوں نے بھلا دیا ، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ اور ان کا برانجام ہوا اور وہ جہنمی ہوگئے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved