سورت کا آغاز نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے جہاں بھی اس آواز سے مسلمانوں کو خطاب کیا جاتا ہے اس کے اندر گہرے اشارات ہوتے ہیں۔
یایھا الذین امنوا (06 : 1) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو “۔ یہ آواز اس رب کی جانب سے ہے جس پر وہ ایمان لاچکے ہیں۔ ان کو اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے ، کہ تمہارے ایمان کے کچھ تقاضے ہیں۔ تم نہایت ہی خطرناک موڑ پر کھڑے ہو ، تمہارے ارد گرد دشمن سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ اور تم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے .... اپنائیت کے انداز میں۔ اللہ اپنے دشمنوں کو ان کا دشمن اور ان کے دشمنوں کو اپنے دشمن سے تعبیر کرتا ہے ، تاکہ مسلمانوں کے اندر یہ شعور ہو کہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔ اسی کی طرف ہی ان کو جانا ہے۔ اللہ کا دشمن ان کا دشمن ہے۔
لا تتخذو .................... بالمودة (06 : 1) ” میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کہ تم ان کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو “۔ یہاں مومنین کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ میرے ہیں اور میری طرف آنے والے ہیں۔ اس لئے میں تمہارے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ لہٰذا وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی طرف منسوب ہیں ، جو اس زمین پر اللہ کے جھنڈے بلند کرنے والے ہیں۔ وہ اللہ کے محبوب اور دوست ہیں۔ لہٰذا ان کے شایان شان یہ بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کریں۔ یہاں ان کو یاد دلایا کہ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ دشمن تمہارے خلاف کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ تمہارے دین اور تمہارے رسول کے بارے میں ان کا رویہ کیا رہا ہے۔ یہ جنون کی حد تک تم پر مظالم کرتے رہے۔
وقد کفروا ............................ باللہ ربکم (0 : 1) ” حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں اور ان کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اس قصور پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب ، اللہ پر ایمان لائے ہو “۔ آخر ان جرائم کے بعد ان کے ساتھ دوستی اور محبت کی کیا بنیاد رہ گئی ہے۔ انہوں نے سچائی سے کفر کیا۔ رسول اللہ کو اپنے گھر اور شہر سے نکالا۔ مومنین کو نکالا اور ان کا اس کے سوا کوئی جرم نہ تھا کہ وہ اللہ رب العالمین پر ایمان لائے تھے۔ مسلمانوں کو وہ باتیں یاددلائی جارہی ہیں جن کا تعلق ان کے عقیدے سے ہے۔ اس عقیدے ہی کی وجہ سے ان کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی تھی اور اس عقیدے کے سوا اس مسلسل جنگ کی اور کوئی وجہ نہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسئلہ ہی ایمان کا تھا۔ جس پر اس قدر جنگیں اور دشمنیاں ہوئیں۔ یہ عقائد کی جنگ ہے ، نظریات کی جنگ ہے۔ صرف یہ مسئلہ ہے کہ انہوں نے سچائی سے انکار کیا ، انہوں نے رسول کو اور ایمان کی وجہ سے مسلمانوں کو نکالا
جب یہ مسئلہ واضح ہے اور ظاہر ہے تو ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اب تو ان کے ساتھ مروت و محبت کا کوئی جو ازہی نہیں ہے۔ بشرطیکہ تم صرف اس مقصد کے لئے آئے ہو ، اگر کسی کا کوئی اور مقصد ہے تو وہ یایھا الذین امنوا (06 : 1) سے مخاطب نہیں ہے۔
ان کنتم .................... مرضاتی (06 : 1) ” اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو “۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک شخص جہاد کے لئے آیا ہو اور اللہ کی رضا کی خاطر مہاجر ہوا ہو اور پھر اسے اس کے ایمان کی وجہ سے نکالا گیا ہو اور وہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جنہوں نے اسے نکالا ہو اور وہ اس کے اور اللہ کے دشمن ہوں۔
اس کے بعد ان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے جو ان کے دلوں میں خفیہ طور پر بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ کہ وہ اللہ کے دشمنوں کی محبت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ، حالانکہ اللہ سے تو کوئی امر پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو خفیہ اور علانیہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔
تشرون ........................ وما اعلنتم (06 : 1) ” تم چھپا کر ان کو دومستانہ پیغام بھیجتے ہو ، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو ، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں “۔
اس کے بعد ان کو ذرا شدید انداز میں دھمکی دی جاتی ہے۔ اس قدر شدید کہ ایک مومن کا دل دہل جاتا ہے۔
ومن .................... السبیل (06 : 1) ” جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقینا راہ راست سے بھٹک گیا “۔ مومن نے سب قربانیاں تو ایمان کی خاطر دی ہیں۔ اگر ایمان ہی کو خطرہ لاحق ہوگیا تو اس کے سوا اس کے لئے کیا اور خطرہ ہوسکتا ہے ؟
ان دونوں تخویفات اور تنبیہات کے بعد دوبارہ اہل ایمان کو بتایا جاتا ہے کہ کفار تمہارے بارے میں کیا کچھ سوچتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں۔