اور اس کے بعد ان کا یہ قول :
یقولون .................... الاذل (36 : 8) ” یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا “۔ اس سے قبل ہم بتا چکے ہیں کہ اس حقیقت کو عبداللہ ابن عبداللہ ابن ابی نے کس طرح حقیقت کرکے پیش کیا اور کس طرح ذلیل آدمی عزت دار آدمی کی اجازت سے شہر میں داخل ہوا۔
وللہ العزة ............................ لا یعلمون (36 : 8) ” حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے ، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں “۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ اور مومنین کو اپنے ساتھ ایک صف میں شامل کرکے ان کو بھی معزز بنایا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ اپنے رسول اور مومنین کو اپنے پہلو میں کھڑا کردے۔ اور کہے ” ہم ہیں معزز اور یہ ہیں ذلیل۔ اللہ نے بالکل سچ کہا ، کہ اس نے قلب مومن میں ایمان کو عزت کے مساوی قرار دیا اور مومن کو عزت حاصل ہوئی اللہ کی عزت سے ، ایسی جو نہ ہلکی ہوتی ہے ، نہ اس میں سستی آتی ہے ، نہ جھلکتی ہے ، اور نہ نرم ہوتی ہے۔ اور یہ عزت نفس انسان مومن کو بہت ہی متزلزل حالات میں بھی ، ایمان کے حوالے سے کمزور ہونے نہیں دیتی۔ اس طرح جب کسی کے دل میں ایمان اچھی طرح قرار پکڑ لیتا ہے اور پختہ ہوجاتا ہے تو اس شخص کے دل میں عزت بھی نہایت مضبوط اور جڑ پکڑ لیتی ہے۔
ولکن .................... لایعلمون (36 : 8) ” مگر منافق جانتے نہیں “۔ وہ کیا جانیں ، انہوں نے نہ تو عزت نفس کا ذوق پایا اور نہ اس کے پاس اس کا سرچشمہ ہے۔