اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کو آخری بار پکارتا ہے ، وہ مومنین جن کے رسول کو اور خود ان کو اللہ نے اپنی عزت سے معزز بنایا ، اللہ کی طرف سے ان کی طرف اب اس سورت میں آخری ندا آتی ہے کہ وہ عزت اور شرف کے اس مقام تک بلند ہوجائیں اور منافقین کی تمام صفات اپنے اندر سے نکال دیں۔ اور مال اور اولاد سے بلند ہوکر شرف کا یہ مقام حاصل کریں ، دیکھو دنیا کا کوئی مفاد ، چاہے مال ہو یا اولاد ہو ، تمہیں روک نہ دے۔
اگر انسان کا قلب زندہ نہ ہو تو مال اور اولاد انسان کو غافل کردینے والے بن جاتے ہیں۔ یہ سامان لہو ولعب ہیں۔ قلب زندہ ہوگا تو معلوم ہوگا کہ انسان کا مقصد وجود کیا ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کے اندر اپنی روح پھونکی ہے۔ اس کی روح کے اندر ایک ایسا روحانی شوق پیدا کیا جو انسان کو ، انسانی طاقت کی حدود کے اندر ، صفات الٰہیہ کا عکس دیتا ہے۔ یہ مال واولاد تو دنیا کے عارضی انتظام اور دنیا میں رہنے کی حد تک ، محدود ذمہ داریاں ہیں ، جو انسان پر ڈالی گئی ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ انسان کو آخرت کی اصل باقی اور دائمی زندگی سے غافل کردیں اور انسان اللہ اور اللہ تک پہنچنے کے اعلیٰ مقصد کو بھلا ہی دے اور انسان وہ سبق بھلا دے جو عالم بالا سے اسے ملتا ہے۔ یوں وہ غافل ہوکر خسارے میں پڑجائے۔
فاولئک ھم الخسرون (36 : 9) ” جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ “ یوں ان کو پہلا خسارہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ انسانی صفات بھلا دیتے ہیں۔ کیونکہ انسان مکمل انسان تب ہی بنتا ہے کہ اسے عالم بالا سے اتصال حاصل ہو اور جو شخص انسانیت ہی گنوادے ، اس نے گویا سب کچھ گنوادیا۔ اس نے گویا اموال واولاد کو بھی گنوادیا۔