Sign in
Grow Beyond Ramadan!
Learn more
Sign in
Sign in
Select Language
72:4
وانه كان يقول سفيهنا على الله شططا ٤
وَأَنَّهُۥ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى ٱللَّهِ شَطَطًۭا ٤
وَأَنَّهُۥ
كَانَ
يَقُولُ
سَفِيهُنَا
عَلَى
ٱللَّهِ
شَطَطٗا
٤
and that the foolish of us used to utter ˹outrageous˺ falsehoods about Allah.1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 72:4 to 72:5

وانہ کان ........................ کذبا (27 : 5) ” اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہتے ہیں “ اور یہ کہ ” ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے “۔ جن اس بات کو دہرا رہے کہ ہمارے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں خلاف حق تصورات رکھتے تھے اور اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اور قرآن کریم سننے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے یہ عقائد درست نہ تھے اور جنوں میں سے جو لوگ اس بات کے قائل تھے وہ بڑے جاہل اور احمق تھے۔ اس قدر جاہل کہ وہ یہ تصور کرتے تھے کہ انسانوں اور جنوں میں سے کوئی شخص اللہ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہے ؟ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتا تھا۔ اس لئے جب بعض احمقوں نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے تو انہوں نے بھی اس بات کو مان لیا ، کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے اللہ پر کوئی افتراء کیسے باندھ سکتا ہے ۔ لیکن یہی شعور ان کے لئے موجب ایمان بن گیا کیونکہ ان کے دل میں یہ پاک خیات تھا۔ ادھر کسی نے اللہ پر جھوٹ باندھا نہیں ادھر اللہ نے اس کی گردن دبوچی نہیں۔ ان جنوں پر گمراہی کا یہ غبار ان کی جہالت کی وجہ سے آگیا تھا۔ جونہی ان کو حق ملا انہوں نے گمراہی کے غبار کو جھاڑ دیا۔ حقیقت کو پالیا۔ اصل حقیقت کو چکھ لیا اور وہ بول اٹھے :

انا سمعنا ........................ ولدا (27 : 1 تا 3) ” ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ ” اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے “۔

اور یہ جھاڑ اور صفائی اس وجہ سے ان کو نصیب ہوئی کہ وہ حق تک پہنچ گئے اور یہ حقیقت اس قابل تھی جس پر کبرائے قریش کے اکثر بر خود غلط دماغ اس پر غور کرتے ، جو یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ کی بیوی ہے اور بیٹیاں ہیں اور اس حقیقت سے ان کے دلوں میں خدا خوفی اور احتیاط پیدا ہوجاتی اور وہ اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے جو حضرت محمد ﷺ ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ اور کبرائے قریش کے جو احمقانہ عقائد تھے ، ان کی صداقت میں شک وشبہ پیدا ہوجاتا ، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ اس قصے کو یہاں لانے کا مقصد بھی یہ تھا کہ کبرائے قریش کے عقائد کی تردید کی جائے۔ قرآن کریم اور کبرائے قریش کے درمیان جو نظریاتی جنگ برپا تھی ، یہ سورت اس کی ایک جھڑپ کا نمونہ تھی۔ اور یہ سورت دراصل ان بیماریوں کا ایک دیرپا علاج کررہی تھی جو زمانہ جاہلیت سے باقی رہ گئی تھیں۔ اور ابھی تک لوگوں کے دلوں پر چھارہی تھیں۔ لوگ سادہ لوح تھے اور وہ ان عقائد سے بری الذمہ تھے ، لیکن گمراہ اور برخود غلط قیادت کی طرف سے ان کو اسی راہ پر چلایا جارہا تھا اور زمانہ جاہلیت کے خرافات کو دین بنا کر ان کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Donate
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved