ان ھذا .................... سبیلا
” یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے ، اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے “۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف جانے کا راستہ بہت ہی آسان ہے۔ ان راستوں کے مقابلے میں جو مشکوک ہیں ، جو ہولناک اور خوفناک ہیں کیونکہ وہ راہ مستقیم ہے۔
یہاں ایک طرف تو اسلام کے ہٹ دھرم مکذبین کے دلوں کے اندر خوف اور زلزلہ پیدا کیا گیا ، دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک اور ضعیف اور قلیل اہل ایمان کی ڈھارس بندھائی گئی ہے کہ اطمینان رکھو اور یقین کرو ، تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے ، وہ تمہارے اعدا سے خود نمٹ لے گا۔ بس ان کے لئے ایک قلیل مہلت مقرر ہے ، یہ ایک معلوم وقت ہے ۔ اس کے بعد حق و باطل کا فیصلہ ہوگا ، جب اس فیصلے کا وقت آجائے گا چاہے اس دنیا میں ہو یا آختر میں اور اللہ پھر اپنے دشمنوں سے انتقام لے گا ۔ ان کو فرعون کی طرح غرق کردے گا یا قیامت میں بیڑیاں پہنا کر عذاب جہنم تپائے گا اور سخت عذاب ہوگا۔ یادرکھو کہ اللہ اپنے دوستوں کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا اور اگر دشمنوں کو مہلت دیتا ہے تو وہ بھی ایک وقت تک دیتا ہے۔
اب سورت کا دوسرا حصہ آتا ہے اور یہ پورا حصہ ایک طویل آیت کی صورت میں ہے۔ روایات کے مطابق سورت کے پہلے حصے کے پورے ایک سال بعد نازل ہوا ہے۔