یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔
وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی فطرت مر چکی تھی ، وہ متاثر ہی نہ ہوتے تھے ، لہذا وہ دعوت کو قبول ہی نہ کرتے تھے۔ جب ان کے دل دلائل ایمان کی طرف متوجہ ہی نہ تھے اور ہدایت کے اشارات ان تک پہنچ ہی نہ پا رہے تھے تو اللہ نے بھی انہیں اس حال پر چھوڑ کر ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے لئے قبولیت حق کے تمام راستے بند ہوگئے۔
كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ " دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں "۔ یہ مزاج ان میں سے اکثریت کا تھا۔