یہ چند مناظر ہیں ، قرآن کریم ان کی قسم کھا کر قلب انسانی کو ان کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان پر غور کرو ، اس طرح انسانی دل و دماغ کو اشارات اور تاثرات سے بھر دیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے یہ لمحات ایک خاص نوعیت رکھتے ہیں ، ان میں ایک طرف خشوع اور دھیما پن ہے اور دوسری طرف پر جلال ہیبت ہے۔ جس طرح سورت کا آغاز پر جلال دھیمے مناظر سے تھا ، یہ لمحات اور مناظر بھی ایسے ہی ہیں۔
شفق کا وقت وہ ہوتا ہے جس میں ہر چیز سہم جاتی ہے ، غروب کے بعد نفس انسانی پر بھی ایک گہری خاموشی اور خوف کے سائے پڑجاتے ہیں۔ انسانی سوچ ان کو الوداع کہتی ہے اور الوداع میں ہمیشہ خاموشی اور دکھ کے سائے ہوتے ہیں اور پھر رات کے خوفناک لمحات آتے ہیں ، جن میں اندھیروں کی وحشت ہوتی ہے۔ اور آخر کار رات کی تاریکیوں میں ہر چیز لپٹ کر خاموش ہوجاتی ہے ، اور ایک مہیب سکون کی فضا ہوتی ہے۔