لترکبن ........................ طبق (19:84) ” تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک مشکل حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے “۔ یعنی ایک صورت حال کے بعد دوسری صورت حال سے تمہیں دوچارہونا پڑے گا۔ جس طرح اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ یہاں ایک حال سے دوسرے حال کی تبدیلی کے لئے ” سواری “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ عربی میں مشکلات سے دوچارہونے کے لئے معاملات ، خطرات ، حالات اور مشکلات پر سوار ہونے کا محاورہ عام ہے۔ کیا جاتا ہے۔
ان المضطر یر کب الصعب من الامور وھو عالم برکوبہ ” مشکلات میں گھرا ہوا شخص مشکلات پر سوار ہوجاتا ہے اور وہ اس بات کو جانتا ہے کہ وہ ان پر کس طرح سوار ہو یعنی قابو پائے “ تحریک اسلامی کو پیش آنے والے حالات ومشکلات ایک کے بعد ایک سخت ترین مراحل کی شکل میں آئیں گے۔ اور یہ حالات اللہ کی تقدیر اور مشیت کے مطابق آئیں گے جو اس راہ میں لوگوں کو چلاتی ہے ، اور دست قدرت ان کو ایک انتہا تک پہنچاتا ہے۔ جہاں سے دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جس طرح شفق نمودار ہوتا ہے ، رات آتی ہے اور چھا جاتی ہے ، چاند نمودار ہوتا ہے اور ماہ کامل بن جاتا ہے یہاں تک انسان اس سفر کو طے کرکے اللہ تک پہنچ جائیں جیسا کہ سابقہ پیراگراف میں تصریح کی گئی۔ پے درپے ہم آہنگ پیراگراف اور فقرات کا آنا ، ایک مفہوم اور فکر سے دوسری سوچ اور معنی اخذ کرنے چلے جانا ، اور ایک نظارے سے دوسرے نظارے تک پہنچنا ، یہ قرآن کریم کا پر اعجاز اور انوکھا انداز ہے جس کی نقل اتارنا ممکن نہیں ہے۔
ان مناظر اور اشارات اور ان مشاہدات اور خوشگوار لمحات کی فضا ، جو اس پوری سورت میں یکے بعد دیگرے آئے۔ ان کے ذکر کے بعد اب ایک عقلمند انسان پر تعجب کیا جاتا ہے کہ ان دلائل ایمان کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتا حالانکہ اس کائنات میں اور خودان کے نفوس میں وافر مقدار میں واضح دلائل موجود ہیں۔