اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ تکذیب کرنے پر تل گئے ہیں ، جھٹلانا ان کا مزاج ثانی بن گیا ہے۔ تکذیب ان کی علامت ہے لیکن ان کے دلوں کے اندر جو بیماریاں ہیں اور جن کی وجہ سے انہوں نے تکذیب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔ یہ محض شرارت ہے اور برے مقاصد ہیں جو تکذیب کا سبب بن رہے ہیں۔
اب ان کی بات یہاں ختم ہوتی ہے اور روئے سخن براہ راست حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔