ان الذین ................................ انھر (11:85) ”” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “۔ یہ ہے حقیقی نجات اور کامیابی۔
ذلک الفوزالکبیر (11:85) ” یہ ہے بڑی کامیابی “۔ فوز کے معنی نجات اور کامیابی کے ہیں۔ آخرت کے عذاب سے نجات پانا ہی بڑی کامیابی ہے اور باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ تو کامیابی پر کامیابی ہے۔ آخرت کے اس انجام پر اب یہ واقعہ مکمل ہوتا ہے اور یہی ہے حقیقی خاتمہ اور انجام دونوں فریقوں کے موقف کا۔ زمین میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ حقیقی واقعات کا ایک حصہ ہوتے ہیں ، یہ تمام واقعہ نہیں ہوتے ، اس واقعہ پر آگے جو تبصرے آتے ہیں ان میں سے پہلا تبصرہ اسی غرض کے لئے ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی جائے کہ واقعات دنیا ہی میں ختم نہیں ہوتے۔ اس دور میں ، جب یہ سورت نازل ہوئی مکہ مکرمہ میں مٹھی بھر مسلمان اس قسم کی مصیبتیں جھیل رہے تھے اسی طرح دنیا کے کسی زمان ومکان ہیں جو لوگ اسلام کے لئے کام کرتے ہیں اور ان پر تشدد ہوتا ہے تو ان کو بھی یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان فتنہ سامانیوں کا انجام قیامت میں سامنے آئے گا۔