قد افلح ................................ فصلی (15:87) ” فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی “۔ تزکی کے معنی ہیں ہر گندگی اور ہر گناہ سے پاکیزگی اختیار کی۔ اس آیت میں اللہ فیصلہ فرماتا ہے کہ جو پاکیزگی اختیار کرے اور اپنے دل میں رب کا جلال بسائے اور پھر نماز پڑھے یا اللہ سے ڈرے اور اطاعت کرے۔ دونوں معنوں سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جلال دل میں بیٹھتا ہے اور ضمیر میں اللہ کی ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ تو فیصلہ یہ ہے کہ وہ شخص فلاح پائے گا۔ دنیا میں بھی وہ فلاح پائے گا کہ اس کا دل اللہ سے جڑا ہوا ہوگا ، زندہ ہوگا ، اللہ کے ذکر میں وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور اس کو باری تعالیٰ سے انس ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح پائے گا۔ وہاں بڑی آگ سے بچے گا اور جنتوں میں نعیم مقیم میں ہوگا۔ دونوں کا انجام دے دیا گیا اور دونوں کے انجام میں بعد المشرقین ہے۔
اس خوفناک منظر میں ، جس میں نار کبریٰ دکھائی گئی ہے اور اس کے بالمقابل نجات کا منظر دکھایا گیا ہے ان لوگوں کے لئے جو پاکیزگی اختیار کرتے ہیں۔ ان مناظر کے بعد بتایا جاتا ہے لوگ بدبختی کے چنگل میں کیوں پھنس جاتے ہیں اور ان کی غفلت کا اصل سبب کیا ہے اور عبرت آموزی ، تطہیر اور فلاح ونجات سے ان کو کیا چیز روکتی ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو انہیں جہنم رسید کرتی ہے اور بدبخت بنادیتی ہے۔