کلا بل ........................................ حباجما
بات یوں نہیں جس طرح ایمان سے خالی انسان سوچتا ہے۔ محض یہ کہ کسی کو کشادہ رزق دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک کرامت والی بات نہیں ہے ، اور نہ تنگی رزق اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے اور اسے اللہ نے چھوڑ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم دولت کا حق ادا نہیں کرتے اور مال سے حقوق نہیں نکالتے۔ تم لوگ یتیم کی کفالت بھی نہیں کرتے ، جو اپنے والدین اور اولیاء اور سرپرستوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر موجود ناداروں کی معاشی کفالت کے لئے کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ مسکین کے معنی ہیں وہ شخص جو ساکن ہے ، سکون سے بیٹھا ہے اور اور لوگوں سے مانگتا نہیں پھرتا۔ یہاں یہ کہا گیا کہ یتیموں اور مسکینوں کے کھانے یعنی معاشی ضروریات فراہم کرنے کے لئے دوسروں کو نہیں ابھارتا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلامی نظام میں ناداروں کی کفالت کے لئے ایک عام تحریک ہوتی ہے ، عام لوگوں کی بھلائی کے لئے لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اور ایک دوسرے کو آمادہ کرتے ہیں۔ ناداروں کی کفالت اسلام کی خصوصیت ہے۔
تم لوگ ابتلا کا مفہوم سمجھتے ہو۔ نہ اس آزمائش میں کامیاب ہونا چاہتے ہو ، حالانکہ اس آزمائش میں کامیابی کی راہ یہ ہے کہ یتیم کی عزت کرو ، ایک دوسرے کو یہ وصیت اور تلقین کرو کہ یتیموں کو کھانا کھلایا جائے بلکہ تم اس کے برعکس صورت اختیار کرتے رہو۔ تم لوگ نہایت لالچ کے ساتھ پوری کی پوری میراث ہڑپ کر جاتے ہو ، اور تم مال کی بھرپور محبت کرتے ہو ، جو کسی حد تک محدود نہیں ہے۔ مال کے معاملے میں تمہارے اندر کوئی خودداری ، کوئی وضع داری نہیں ہے۔ اور تم محتاجوں کی نہ عزت کرتے ہو اور نہ ان کی حاجت براری کرتے ہو۔
جیسا کہ ہم نے اس سے قبل تفصیلات دی ہیں ، مکہ میں ایسی صورت حال تھی کہ لوگ بےحد لالچی اور مفادات کے پیچھے کتوں کی طرح بھاگنے والے تھے ، اور ہر طریقے سے دولت سمیٹتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں بخل اور سنگدلی پیدا ہوگئی تھی۔ یتیم چونکہ بےسہارا ہوتے تھے اس لئے ان کے مال ہڑپ کرلیے جاتے تھے۔ خصوصاً یتیم عورت کے۔ پھر ان کو میراث سے محروم کردیتے تھے جیسا کہ متعدد مقامات پر ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کے علاوہ سودی کاروبار کے ذریعہ بھی اہل مکہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ دولت کی پرستش ہر جاہلیت کی خصوصیت ہوتی ہے جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو۔
ان آیات میں نہ صرف یہ کہ ان کے موقف کو اچھی طرح بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی مذمت بھی کی گئی ہے اور اس صورت حال کو بڑی سختی سے ناقابل برداشت بنایا گیا ہے اور اس کے لئے لفظ ” کلا “ استعمال کیا گیا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ آیات کے انداز بیان اور زودار تعبیر اور الفاظ کے زبردست لہجے سے بھی اس صورت حالات کی مذمت نکلتی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔