کلااذا ................................ وثاقہ احد
دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مجرم اس کے قریب ہوجائیں گے اور وہ اہل جہنم سے قریب ہوجائے گی۔ رہی اصل کیفیت اور صورت حالات تو وہ ایک غیبی امر ہے اور یہ اسی دن اچھی طرح معلوم ہوگی جب برپا ہوگی۔
ان آیات کے ذریعہ ایک ایسی منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ آنکھیں سہم کر جھک جاتی ہیں۔ الفاظ کا تلفظ اور ترنم بھی خوفناک ہے اور مناظر کی شدید گرفت ہے۔ زمین کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ رب تعالیٰ کا نزول و جلال اور فیصلے کرنا فرشتوں کا صف بستہ کھڑے ہونا اور جہنم کا تیار کرکے حاضر کردیاجانا ، ایسے مناظر ہیں جن کی وجہ سے انسان پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔
یومئذ ................ الانسان (23:89) ” اس دن بات انسان کی سمجھ میں آجائے گی “۔ وہ انسان اصل حقیقت کو سمجھ جائے گا جو اس جہاں میں امیری اور غریبی کی حقیقت کو بھی سمجھ نہ پارہا تھا۔ جو میراث کا تمام مال سمیٹ کر کھا جاتا تھا۔ اور یتیموں اور عورتوں کا حق بھی مار لیتا تھا۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار تھا۔ نہ یتیم کا اکرام کرتا تھا اور نہ مساکین کی معیشت کے لئے کوئی دوڑ دھوپ کرتا تھا۔ جو سرکش تھا اور جس نے اپنی دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر زمین کو فساد سے بھردیتا تھا۔ ایسا شخص آج سب کچھ سمجھ لے گا اور وہ نصیحت کو اچھی طرح قبول کرلے گا لیکن اب تو وقت جاچکا ہے۔
وانی لہ الذکری (23:89) ” لیکن اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ “ نصیحت لینے اور عمل کرنے کا وقت تو جاچکا ہے۔ آج نصیحت کیا فائدہ دے گی۔ یہ تو دارالجزاء ہے ۔ اب تو حسرت ہی حسرت ہے۔ تمہارے لئے دارالعمل تو دنیا کی زندگی تھی جہاں تم نہ سمجھے اور نہ عمل کیا۔